.

یو اے ای کی چار بحری جہازوں پر تخریبی حملے کی تحقیقات میں دوسرے ممالک کو شمولیت کی دعوت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

متحدہ عرب امارات نے دس روز قبل اپنے پانیوں کے نزدیک چار بحری جہازوں پر تخریبی حملے کی تحقیقات میں ’’برادر اور دوست ممالک‘‘ کو شرکت کی دعوت دی ہے اور کہا ہے کہ وہ تحقیقاتی عمل میں ان ممالک کی شمولیت کا خیرمقدم کرے گا۔

متحدہ عرب امارات کے پانیوں کے نزدیک 12 مئی کو چار تجارتی بحری جہاز وں کو ’تخریب کاری‘ کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ان میں دو تیل بردار جہاز سعودی عرب کے تھے، ایک تجارتی بحری جہاز امارات اور ایک ناروے کا تھا۔ تخریب کاری کے حملے کا نشانہ بننے والا سعودی عرب کا ایک جہاز راس تنورہ کی بندرگاہ کی جانب جارہا تھا جہاں اس پر سعودی خام تیل لادا جانا تھا اور یہ تیل امریکا میں سعودی آرامکو کے صارفین کو بھیجا جانا تھا۔

تھوم شپ مینجمنٹ نے کہا ہے کہ اس کے ناروے میں رجسٹرڈ تیل بردار ٹینکر ایم ٹی آندریا(اینڈریو) وکٹری کو کسی نامعلوم چیز سے نشانہ بنایا گیا تھا۔برطانوی خبررساں ایجنسی رائیٹرز نے حملے کے بعد اس کی فوٹیج ملاحظہ کی ہے اور اس کے مطابق جہاز کے بیرونی دھاتی حصے میں پانی کی سطح پر کوئی خطرناک چیز ٹکرانے سے سوراخ ہوگیا ہے ۔

یو اے ای کی وزارت خارجہ نے اس حملے کے بعد ایک بیان میں کہا تھا کہ’’ تجارتی بحری جہازوں کو تخریب کاری کا نشانہ بنایا جانا اور ان کے عملہ کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالنا ایک خطرناک پیش رفت ہے‘‘۔ اس نے عالمی برادری پر زور دیا تھا کہ وہ آبی ٹریفک کی سلامتی اور تحفظ کو نقصان پہنچانے والی کسی بھی پارٹی کو روکنے کے لیے اپنی ذمے داریوں کو پورا کرے ۔

وزارت ِ خارجہ کے مطابق تخریب کاری کے حملے کے نتیجے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تھا اور نہ ان چاروں جہازوں سے تیل یا خطرناک کیمیکلز کا سمندری پانی میں اخراج ہوا تھا۔ اگر ایسا ہوتا تو اس سے خلیج عُمان میں انسانی زندگی اور ماحول کے لیے شدید خطرات لاحق ہوسکتے تھے۔ فجیرہ کی بندرگاہ ایران کی اہم آبی گذرگاہ آبنائے ہرمز سے 140 کلومیٹر جنوب میں واقع ہے۔خلیج فارس میں واقع آبنائے ہرمز سے دنیا کا ایک تہائی تیل ہو کر گذرتا ہے۔