امریکی طالبان 'جان لنڈھ' کی جیل سے رہائی کا امکان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکا کی افغانستان میں طالبان کے خلاف جنگ کے دوران گرفتار ہونے والے امریکی شہری جان واکر لنڈھ کو جمعرات کے روز امریکی وفاقی عدالت سے رہا کر دیا جائے گا۔ تاہم بعض امریکی حکام ابھی بھی جان کو سیکیورٹی رسک گردانتے ہیں۔

جیل حکام کے مطابق جان لنڈھ اپنی 20 سالہ قید کے 17 سال مکمل ہونے کے بعد امریکی ریاست انڈیانا کی ایک وفاقی جیل سے ضمانت پر رہا کیا جائے گا۔

38 سالہ جان لنڈھ اور اس سمیت کئی درجن قیدیوں کو 11 ستمبر 2001ء کو ہونے والے دہشت گردی کے واقعات کے بعد حراست میں لیا گیا تھا اور ان کی ان حالیہ سالوں میں سزائیں مکمل ہورہی ہیں۔

امریکی حکومت کی 'فارن پالیسی' میگزین میں شائع شدہ خفیہ دستاویزات کے مطابق امریکی حکومت 2016 تک یہ مانتی رہی ہے کہ جان لنڈھ اب بھی شدت پسند نظریات رکھتا ہے۔

امریکی نوجوان جان لنڈھ نے عیسائیت کو چھوڑ کر اسلام قبول کیا۔ اس نے سنہ 2002ء میں اپنی سزا کے موقع پر بتایا کہ اس نے عربی سیکھنے کے لئے یمن اور اسلام کی تعلیمات سیکھنے کے لئے پاکستان کا رخ کیا۔ جان کے مطابق اس نے مسلمان بھائیوں کی مدد کے لئے طالبان کا فوجی بننے کے لئے رضاکارانہ طور پر اپنی خدمات پیش کیں۔

اس نے عدالت میں دئیے گئے بیان میں کہا کہ اس نے کبھی امریکا کے خلاف جنگ کی نیت نہیں رکھی اور اس کے علم کے مطابق جہاد کا مطلب صرف امریکا مخالفت نہیں ہے۔ اس نے عدالت کے سامنے تمام دہشت گردی کے واقعات کی مذمت کی اور القاعدہ کے امریکا پر حملوں کو اسلامی تعلیمات کے مخالف قرار دیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں