.

ایرانی تیل پر پابندی کے ترکی پر کیا اثرات مرتب ہوں گے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کی جانب سے ایرانی تیل کی درآمدات پر پابندی کے بعد ترکی نے ایرانی تیل کے لیے اپنی بندرگاہیں بند کردی ہیں۔ اس بندش کے ترکی کی معیشت پر کیا اثرات مرتب ہوں گے اور ترکی اپنی تیل کی ضروریات کیسے پوری کرے گا؟۔

اس وقت ترکی معیشت اور اقتصادیات کے لیے یہ ایک اہم سوال ہے کیونکہ ترکی ان آٹھ ممالک میں سے ایک ہے جنہیں امریکا کی طرف سے ایران سے تیل خرید کرنے کی چھوٹ دی گئی تھی۔ امریکا کی طرف سے دی گئی مہلت 2 مئی کو ختم ہو گئی تھی۔

ایرانی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ ایران اب خشکی کے راستے تیل سپلائی کرے گا۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ ایران ایسے آئل ٹینکروں کی مدد سے تیل کی ترکی کو سپلائی کی کوشش کرے گا جو راڈار پر نہیں دیکھے جا سکتے مگر انقرہ کو یہ پریشانی ہے کہ وہ امریکا کے ساتھ اپنے تنازعات کو مزید بڑھاوا نہیں دے سکتا۔ اگر ترکی چوری چھپے ایران سے تیل حاصل کرتا ہے تو اسے امریکا کی طرف سے ممکنہ طور پر پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

امریکا اس وقت ایران سے ترکی کے درمیان تیل کی سپلائی اور ترکی کی بندرگاہوں پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔

مئی 2018ء میں امریکا نے ایران کے ساتھ طے پائے جوہری معاہدے سےعلاحدگی کا اعلان کیا۔ ترکی ایران سے اوسطا ہر ماہ 9 لاکھ 12 ہزار ٹن تیل خرید کرتا رہا ہے جو اس کی مجموعی درآمدات کا 47 فی صد ہے۔

مگر نومبر 2018ء میں جب امریکا نے ایرانی تیل، گیس اور پٹرولیم درآمدات پر پابندی عاید کی تو ترکی کو رواں سال اپریل تک ایران سے محدود پیمانے پر تیل کی خریداری کی اجازت دی گئی۔ اس دوران ترکی اوسطا دو لاکھ 90 ہزار ٹن تیل ایران سے خرید کرتا رہا ہے۔

ترکی میں توانائی کی ضروریات پر نظر رکھنے والی کمیٹی کی طرف سے جاری کردہ ایک تازہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران 15 فی صد تیل فراہم کرتا رہا ہے۔ اس کے بعد عراق 23 فی صد، روس 20 فی صد اور کازکستان ترکی کے تیل کی 16 فی صد ضروریات پوری کرتا ہے۔

ایرانی خبر رساں ادارے ’تسنیم‘ کے مطابق امریکا، ترکی کو روس، عراق، کازخستان سے تیل کی خریداری پرمجبور کر رہا ہے تاکہ ترکی ایران سے تیل نہ خرید سکے۔

پابندیاں غیر موثر کرنے کی کوشش

ایرانی صدر حسن روحانی نے گذشتہ منگل کو ایرانی تیل کے مستقبل کے حوالے سے واضح کیا کہ وزارت خارجہ اور وزارت پٹرولیم ’’مرکی‘‘ بنک کے ساتھ مل کر تیل کی درآمدات پر پابندیوں کو غیر موثر بنانے کے لیے اقدامات کرے گا۔

حسن روحانی نے کہا کہ امریکا کے ساتھ جاری محاذ آرائی ایرانی تیل کی سپلائی میں اضافے کا نتیجہ ہے۔ ہمیں تیل پر انحصار کم کرتے ہوئے دیگر مصنوعات کو بھی مارکیٹ میں لانا چاہیے۔ ایران میں سیاحت کے بے شمار مواقع موجود ہیں اور ہم سیاحت کا دروازہ کھول سکتے ہیں۔ گذشتہ برس ایران کو سیاحت کے شعبے میں 50 فی صد زیادہ آمدن ہوئی۔

انہوں‌ نے کہا کہ ہم فخر کے ساتھ تیل پر پابندیوں کو ناکام بنانے کے اقدامات کریں گے۔ ہمیں خوشی ہے کہ ہم امریکا کی طرف سے عاید کردہ پابندیوں کو غیر موثر بنا رہے ہیں۔

تاہم ایران کے اندر ایسی آوازیں موجود ہیں‌جو ایران کی معاشی پالیسیوں‌ پر شدید تنقید کر رہی ہیں۔ توانائی کمیٹی کے رکن ھدایت اللہ خادمی کا کہنا ہے کہ تہران کے پاس امریکا کی طرف سے عاید کر دی پابندیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے کوئی مربوط لائحہ عمل نہیں ہے۔