بشار کی انٹیلی جنس کے ساتھ رابطہ کاری میں کوئی برائی نہیں : ترک حکمراں جماعت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ترکی کی جانب سے شامی حکومت کو خونی قرار دے کر اسے تنقید کا نشانہ بنانے اور شامی حکومت کے خلاف لڑنے والے اپوزیشن گروپوں کے لیے انقرہ کی سپورٹ کے باوجود ترکی کی حکمراں جماعت جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی نے اعلان کیا ہے کہ ترکی اور شام کی انٹیلی جنس ایجنسیوں کے درمیان ملاقاتوں کا انعقاد کوئی حرج کی بات نہیں۔

بدھ کے روز حکمراں جماعت کا یہ موقف ترک میڈیا میں نشر ہونے والی ایک رپورٹ کے جواب میں سامنے آیا ہے۔ رپورٹ میں ترکی اور شام کے درمیان اعلی سطح پر رابطوں کے وجود کا انکشاف کیا گیا تھا۔ ترکی کے اخبار آئیدنلیک نے بشار الاسد سے ملاقات کرنے والے صحافیوں کے حوالے سے بتایا کہ شام کی ایک کمیٹی نے ترکی کی انٹیلی جنس کے سربراہ حاقان ویدان سے ملاقات کی ہے۔

جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی کے ترجمان عمر جلیک نے فریقین کے درمیان کسی ملاقات یا اجلاس کی تصدیق نہیں کی تاہم انہوں نے کہا کہ ترک صدر رجب طیب ایردوآن اور بشار الاسد کے درمیان کئی برس سے مستحکم عداوت کے باوجود یہ ایک نارمل بات ہو گی۔

جلیک نے واضح کیا کہ "ہماری انٹیلی جنس اور میدان جنگ (شام) میں ہمارے عناصر اپنی چاہت کے مطابق کسی بھی وقت کوئی بھی ملاقات کر سکتے ہیں ،،، جب وہ کسی بھی المیے سے بچنے یا کسی ضرورت کے تحت ایسا کرنا مناسب سمجھتے ہوں"۔

ایردوآن شامی صدر بشار الاسد کو دہشت گرد قرار دے چکے ہیں۔ شام میں جنگ کے آٹھ سالوں کے دوران وہ کئی بار اپنے بیان میں کہہ چکے ہیں کہ بشار کو جانا ہو گا۔

ترکی کے وزیر خارجہ مولود چاوش اولو نے گزشتہ برس دسمبر میں کہا تھا کہ شام میں جمہوری انتخابات میں بشار کی جیت کی صورت میں ترکی اور دیگر ممالک اس کے ساتھ معاملات کے امکان پر غور کریں گے۔

رواں سال فروری میں ایردوآن نے اعلان کیا تھا کہ ان کے ملک نے دمشق حکومت کے ساتھ کم تر سطح پر رابطے برقرار رکھے ہیں۔

یاد رہے کہ ترکی شام میں کرد پیپلز پروٹیکشن یونٹس تنظیم کو بھگانے کے لیے دو آپریشن کر چکا ہے۔ انقرہ حکومت اس کو ایک دہشت گرد تنظیم شمار کرتی ہے۔

انقرہ نے حالیہ عرصے میں بشار الاسد کے ایک بڑے حلیف روس کے ساتھ تعاون بھی کیا تا کہ شام کے شمال مغرب میں لڑائی کو روکا جا سکے۔ اس دوران ماسکو اور دمشق کی جانب سے اپوزیشن کے بڑے گڑھ ادلب صوبے پر حملوں کے حوالے سے دباؤ بڑھتا جا رہا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں