لیبیا میں جنگ بندی کے لیے ابھی حالات سازگار نہیں: خلیفہ حفتر کی فرانسیسی صدر سے گفتگو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

لیبیا کے مشرقی علاقے پر قابض قومی فوج ( ایل این اے) کے کمانڈر خلیفہ حفتر نے کہا ہے کہ جنگ زدہ ملک میں بحران کے حل کے لیے مشمولہ سیاسی مذاکرات ضروری ہیں۔اگر جنگ بندی کے لیے حالات سازگار بنائے جاتے ہیں تو پھر وہ ان مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔

وہ بدھ کے روز پیرس میں فرانسیسی صدر عمانوایل ماکروں سے ملاقات میں گفتگو کررہے تھے۔عمانو ایل ماکروں اور دوسرے فرانسیسی عہدے دار ایک جانب طرابلس میں وزیراعظم فائز السراج کے زیر قیادت قومی اتحاد کی حکومت ( جی این اے) کی حمایت کررہے ہیں اور وہ غیر مشروط جنگ بندی کا مطالبہ کررہے ہیں لیکن دوسری جانب فرانس سمیت بعض یورپی ممالک خلیفہ حفتر کی بھی حمایت کررہے ہیں اور وہ انھیں لیبیا میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ایک اہم کردار سمجھتے ہیں۔

خلیفہ حفتر کے زیر قیادت قومی فوج نے اپریل کے اوائل میں دارالحکومت طرابلس پر قبضے کے لیے چڑھائی کردی تھی۔تب سے اس کی قومی حکومت کے زیر قیادت فورسز سے لڑائی جاری ہے۔ خلیفہ حفتر کی فوج طرابلس کے گردونواح میں مورچہ زن ہے مگر شہر پر قبضے کے لیے اب تک وہ کوئی نمایاں پیش قدمی میں ناکام ہے۔

صدر عمانو ایل ماکروں اور خلیفہ حفتر کے درمیان پیرس میں ملاقات کے بعد ایک فرانسیسی عہدہ دار نے کہا کہ ’’ لیبیا کے کرداروں کے درمیان عدم اعتماد روز بروز بڑھتا جارہا ہے۔جب جنگ بندی کا سوال اٹھایا گیا تو خلیفہ حفتر نے اس کے ردعمل میں الٹا یہ سوال داغ دیا کہ ’’ آج جنگ بندی کے لیے کس سے مذاکرات کیے جائیں؟‘‘

اس عہدہ دار کے مطابق ’’ وہ (حفتر) یہ خیال کرتے ہیں کہ جی این اے (قومی اتحاد کی حکومت ) مکمل طور پر ملیشیاؤں کے زیر اثر آچکی ہے اور وہ ان ملیشیاؤں کے نمایندوں سے مذاکرات سے تو رہے‘‘۔

دریں اثناء لیبیا کے وزیر اعظم فائز السراج نے بھی یورونیوز ٹیلی ویژن سے گفتگو کرتے ہوئے بظاہر جنگ بندی کے امکان کو مسترد کردیا ہے۔انھوں نے خبردار کیا ہے کہ ’’جب تک خلیفہ حفتر کے دستے مشرق کی جانب واپس نہیں چلے جاتے،اس وقت تک ( طرابلس کے گردونواح میں جاری) لڑائی کو روکا نہیں جاسکے گا‘‘۔

لیبیا کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی غسان سلامہ نے منگل کو ایک بیان میں خبردار کیا تھا کہ ملک میں جاری موجودہ لڑائی ایک طویل خونریز تنازع کا آغاز ہوسکتی ہے اور یہ ملک کی مستقل تقسیم پر بھی منتج ہوسکتی ہے۔فرانسیسی عہدہ دار کا کہنا تھا کہ عالمی برادری تو لیبیا میں جنگ بندی اور سیاسی مذاکرات کی بحالی کی خواہاں ہے لیکن خلیفہ حفتر کے بہ قول اس وقت جنگ بندی کے لیے کوئی دوسرا فریق موجود ہی نہیں جس سے کوئی بات چیت کی جا سکے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں