ایرانی جنرل کا دفاعی ٹیکنالوجی یمن، لبنان، فلسطین اور افغانستان کو منتقل کرنے کا دعویٰ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

ایرانی فوج کے ایک سینیر عہدہ دار حسن سیفی نے کہا ہے کہ تہران نے اپنی عسکری ٹیکنالوجی اور عسکری ثقافت یمن، فلسطین کے علاقے غزہ، افغانستان اور لبنان کو منتقل کردی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ایران کے آرمی چیف کے نائب بریگیڈئیر جنرل حسن سیفی نے ایک بیان میں کہا کہ فلسطین، افغانستان، لبنان اور یمن میں ایران کے وفادار عسکری گروپ موجود ہیں۔ یہ عسکری تنظیمیں ایرانی فوجی تجربات اور عسکری ٹیکنالوجی پرانحصار کرتی ہیں۔ ایران ان تنظیموں کو اپنی طاقت کے مراکز قرار دیتا ہے۔

ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی'مہر' کے مطابق جنرل حسن سیفی نے کہا :’’ دشمن کو ایران کی دفاعی اور عسکری صلاحیت کا ادراک ہوجانا چاہیے۔ ایران کسی سے خوف زدہ نہیں بلکہ میدان جنگ میں اترنے کےلیے تیار ہے۔ دھمکی آمیز بیانات اور دعوے ہمیں نہیں ڈرا سکتے‘‘۔

ایک سوال کے جواب میں حسن سیفی نے امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے امکانات کومسترد کردیا۔ انھوں‌نے کہا کہ ایرانی فوج کسی بھی صورت حال کا سامنا کرنے کے لیے چوکس ہے۔ اگر امریکا ایران پر حملہ کرتا ہے تو اسے اس کی بھاری قیمت چکانا پڑے گی۔

خیال رہے کہ اس وقت ایران اور امریکا ایک دوسرے کے خلاف صف آراء ہیں اور دونوں ملک ایک دوسرے کو سنگین نتائج کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔ امریکا نے مشرق وسطیٰ میں اپنے مفادات کو لاحق خطرات کے دفاع کے لیے مزید ڈیڑھ ہزار فوجی بھیجنے کا اعلان کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں