نیویارک میں حزب اللہ کا لبنانی نژاد جاسوس گرفتار: امریکی وزارت انصاف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

نیویارک میں لبنانی تنظیم حزب اللہ کے ایک رکن کو جاسوسی اور دہشت گرد کارروائیوں کی منصوبہ بندی سے متعلق جرائم کے ارتکاب پر قصور وار ٹھہرایا گیا ہے۔ یہ بات امریکی وزارت انصاف کے ایک بیان میں بتائی گئی جو امریکی میڈیا نیٹ ورک"OpsLens" کی ویب سائٹ پر جاری کیا گیا۔

وزارت انصاف کے بیان کے مطابق لبنانی نژاد علی کورانی عُرف یعقوب لوئس نے "امریکا میں دہشت گرد حملوں کی منصوبہ بندی کے سلسلے میں حزب اللہ کی ذیلی تنظیم الجہاد الاسلامی کے لئے بھرتی اور تربیت جیسے جرائم کا ارتکاب کیا"۔

امریکی معاون اٹارنی جنرل جان ڈیمریس کے مطابق عدالتی کارروائی کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ کورانی نے ایسے لوگوں کو تلاش کیا جنہیں اس نوعیت کے حملوں کے لیے ہتھیار فراہم کیے جا سکیں۔ اس سلسلے میں دہشت گرد حملوں کی کارروائیوں میں شرکت کے لئے کئی افراد کو بھرتی کیا گیا۔ اس کے علاوہ کورانی نے ممکنہ اہداف کے بارے میں معلومات بھی جمع کیں۔

معاملے کا تشویش ناک ترین پہلو یہ ہے کہ اس دوران کورانی اہم انٹیلی جنس معلومات لبنان میں اپنے سرغنوں کو منتقل کرنے میں کامیاب ہو گیا۔ ان معلومات میں نیویارک میں عسکری اور پولیس تنصیبات کی مسلسل نگرانی سے حاصل تفصیلات شامل ہیں۔

نیویارک کے علاقے برونکس میں سکونت پذیر کورانی نے شہر میں دہشت گرد حملوں کے لیے مختلف اہداف اور مقامات کا سروے بھی کیا۔ ان مقامات میں جون کینیڈی ایئرپورٹ، عسکری تنصیبات اور امریکا میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے زیر انتظام عمارتیں شامل ہیں۔

یہ دوسرا موقع ہے جب حالیہ عرصے میں واشنگٹن کی جانب سے شدت پسند گروپوں اور کالعدم دہشت گرد جماعتوں سے تعلق رکھنے والے کسی ایجنٹ پر فرد جرم عائد کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ کچھ عرصہ قبل شمالی ٹیکساس سے تعلق رکھنے والے 18 سالہ مائیکل سیویل کو بھی اسی طرح کے الزامات میں قصور وار ٹھہرایا گیا تھا۔

مائیکل نے اعتراف کیا تھا کہ اس نے پاکستانی گروپ "لشکر طیبہ" کی سرگرمیوں کے واسطے بھرتیاں کی تھیں۔ لشکر طیبہ کا نام 2008 میں ہونے والے ممبئی حملوں میں ملوث ہونے کے حوالے سے لیا جاتا ہے۔ مائیکل پر کئی جرائم کے ارتکاب کے الزامات عائد کیے گئے۔ ان میں لشکر طیبہ میں شمولیت کے لئے رضاکاروں کو بھرتی کرنے کی سازش بھی شامل ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں