.

الجزائر:4 جولائی کو ہونے والے صدارتی انتخابات میں دو غیر معروف امیدوار مدمقابل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

الجزائر میں 4 جولائی کو ہونے والے صدارتی انتخابات کے لیے صرف دو امیدوار سامنے آئے ہیں۔ الجزائر کے سرکاری ریڈیو کے مطابق کاغذاتِ نامزدگی جمع کرانے کے لیے مقررہ وقت ہفتے کی نصف شب تک کسی امیدوار نے انتخابات میں حصہ لینے کے لیے رجسٹریشن نہیں کرائی تھی لیکن دستور کونسل نے اتوار کو دو امیدواروں کی رجسٹریشن کی اطلاع دی ہے۔

دستوری کونسل نے ایک بیان میں بتایا ہے کہ دو امیدواروں عبدالحکیم حمادی اور حامد تہوری نے صدارتی انتخاب میں حصہ لینے کے لیے کاغذاتِ نامزدگی جمع کرائے ہیں۔یہ دونوں غیر معروف شخصیات ہیں جبکہ ملک کی کسی بڑی سیاسی جماعت نے اپنا کوئی صدارتی امیدوار نامزد نہیں کیا ہے۔

الجزائر میں معزول صدر عبدالعزیز بوتفلیقہ کے خلاف احتجاجی تحریک چلانے والے مظاہرین ان صدارتی انتخابات کی مخالفت کررہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ وہ کرپشن سے آلودہ حکام کی موجودگی میں کسی پول کو تسلیم نہیں کریں گے۔وہ ان انتخابات سے قبل ملک میں وسیع تر اصلاحات کا مطالبہ کررہے ہیں۔ آیندہ صدارتی انتخابات کے انعقاد میں ایک اور رکاوٹ بھی حائل ہے اور بعض مئیروں اور مجسٹریٹوں نے انتخابات کے موقع پر فرائض انجام دینے سے انکار کردیا ہے۔

لیکن الجزائر کے ارباب ِ اقتدار 4 جولائی کو صدارتی انتخابات منعقد کرانے کے لیے پُرعزم ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ ان کے نتیجے ہی میں ملک کو موجودہ بحران سے نکالا جاسکتا ہے۔الجزائر میں اپریل کے اوائل میں سابق مطلق العنان صدر عبدالعزیز بوتفلیقہ کی معزولی کے بعد سے احتجاجی مظاہرے جاری ہیں ۔یہ احتجاجی تحریک بوتفلیقہ کے فروری میں پانچویں مدتِ صدارت کے لیے امیدوار بننے کے خلاف شروع ہوئی تھی اور اس میں شدت آنے کے بعد انھیں اقتدار چھوڑنا پڑا تھا۔

اب مظاہرین نظام ِحکومت میں اصلاحات ،معزول صدر بوتفلیقہ کے دور سے اقتدار پر فائز شخصیات کو چلتا کرنے اور ان کے خلاف بدعنوانیوں کے الزامات کی تحقیقات اور مقدمات چلانے کا مطالبہ کررہے ہیں۔

دریں اثناء الجزائر کے پراسیکیوٹر جنرل کے دفتر نے کہا ہے کہ دو سابق وزراء اعظم اور آٹھ وزراء سمیت بارہ سابق حکومتی عہدے داروں کے خلاف بدعنوانیوں کے الزامات کی بنیاد پر قائم مقدمات کو عدالتِ عظمیٰ میں بھیجا جارہا ہے۔