.

مشرقِ اوسط میں امریکا کی تاریخ کی کم زورفوج ہے:نائب کماندار سپاہِ پاسداران انقلاب ایران

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کی سپاہِ پاسداران انقلاب کے ایک نائب کمان دار رئیر ایڈمرل علی فداوی نے دعویٰ کیا ہے کہ اس وقت مشرقِ اوسط کے خطے میں امریکا کی تاریخ میں ایک کم زور فوج موجود ہے۔

ایران کی نیم سرکاری خبررساں ایجنسی فارس کے مطابق علی فداوی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’ امریکی اس خطے میں 1833ء سے موجود ہیں ۔اس وقت وہ مغربی ایشیا میں اپنی تاریخ کی کم زور ترین حالت میں ہیں‘‘۔

اس وقت ایران اور امریکا ایک دوسرے کے خلاف صف آراء ہیں اور دونوں کے قائدین ایک دوسرے کو سنگین نتائج کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔ امریکا نے مشرق اوسط میں اپنے مفادات کو لاحق خطرات کے دفاع کے لیے مزید ڈیڑھ ہزار فوجی بھیجنے کا اعلان کیا ہے۔اس سے پہلے اس نے اپنا ایک طیارہ بردار بحری بیڑا اور بی 52 بمبار لڑاکا طیارے خطے میں بھیجے تھے۔اس کا پانچواں بحری بیڑا پہلے ہی بحرین میں لنگر انداز ہے۔

ان پیشگی جنگی تیاریوں کے باوجود امریکی ڈونلڈ ٹرمپ یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ ان کی ایران سے جنگ کا امکان نہیں۔ ایرانی قیادت نے بھی ایسے بیانات جاری کیے ہیں جن میں کہا ہے کہ ان کی امریکا سے جنگ نہیں ہوگی۔ تاہم ایران کے فوجی عہدے دار ساتھ ساتھ دھمکی آمیز بیانات بھی جاری کررہے ہیں۔ گذشتہ روز نے ایرانی آرمی چیف کے نائب بریگیڈئیر جنرل حسن سیفی نے کہا تھا کہ ایرانی فوج کسی بھی صورت حال کا سامنا کرنے کے لیے چوکس ہے۔ اگر امریکا ایران پر حملہ کرتا ہے تو اسے اس کی بھاری قیمت چکانا پڑے گی۔