.

ایران میں حکومت تبدیلی کی کوشش نہیں کر رہے: ٹرمپ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے باور کرایا ہے کہ ان کا ملک ایران میں حکومت کی تبدیلی نہیں چاہتا۔ انہوں نے یہ بات پیر کے روز ٹوکیو میں جاپانی وزیراعظم شنزو آبے کے ساتھ ایک پریس کانفرنس میں کہی۔ ٹرمپ نے مزید کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ ایران، امریکا کے ساتھ سمجھوتے کرنا چاہتا ہے۔

امریکی صدر کا کہنا تھا کہ "ہم ایران میں حکومت کی تبدیلی کے لیے کوشاں نہیں ہیں۔ تاہم ہم یہ چاہتے ہیں کہ وہ جوہری تجربات کا سلسلہ روک دیں ... مشرق اوسط میں ایران کے بہت سے اقدامات ناقابل قبول ہیں"۔

ٹرمپ نے باور کرایا کہ خطے کے ممالک میں ایران کی مداخلت واشنگٹن کی جانب سے عائد پابندیوں کے سبب رک جائے گی۔

دوسری جانب جاپانی وزیراعظم نے یقین دہانی کرائی ہے کہ اُن کا ملک اپنے نمائندوں کو تہران بھیجے گا تا کہ ایران اور امریکا کے درمیان اختلافات کو حل کیا جائے۔

اس سے قبل پیر کے روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ بات چیت کا امکان ظاہر کیا۔ ٹرمپ کا یہ موقف پیر کے روز جاپانی وزیراعظم شنزو آبے کے ساتھ ملاقات کے دوران سامنے آیا۔ امریکی صدر کا کہنا تھا کہ "میں سمجھتا ہوں کہ ایران بات چیت کا خواہش مند ہے۔ اگر انہوں نے خواہش کا اظہار کیا تو ہم بھی اس کے خواہش مند ہیں"۔ انہوں نے مزید کہا کہ "ہم دیکھیں گے کہ کیا ہوتا ہے ،،، تاہم میں ایک حقیقت جانتا ہوں کہ وزیراعظم (شنزو آبے) کے ایرانی قیادت کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں۔ کوئی بھی یہ نہیں چاہتا کہ بدترین صورت حال پیدا ہو"۔

ڈونلڈ ٹرمپ 4 روزہ سرکاری دورے پر ہفتے کے روز جاپان پہنچے تھے۔ دورے کا مقصد دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کی مضبوطی کو ظاہر کرنا ہے۔

یاد رہے کہ ٹرمپ ایران کو دھمکی دے چکے ہیں کہ اگر اس نے خطے میں موجود امریکی فورسز یا امریکا کے اتحادیوں کے حوالے سے کوئی دشمنانہ کارروائی کی تو اس کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔ گذشتہ ہفتے امریکا کی جانب سے طیارہ بردار بحری جہاز اور میزائل لانچرز بھیجے جانے کے بعد خطے میں تناؤ میں اضافہ ہو گیا ہے۔ امریکا کہا کہنا ہے کہ یہ اقدام اُن معلومات کے جواب میں کیا گیا ہے جن کے مطابق ایران کی جانب سے خطرات پائے جاتے ہیں۔

گذشتہ جمعرات کے روز ایک پریس کانفرنس میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ "ایران دہشت گردی کی سرپرستی کرنے والا ملک ہے اور مشرق اوسط میں اس کی پالیسی خطرناک ہے"۔ ٹرمپ نے باور کرایا کہ "مشرق اوسط میں تمام مسائل اور شورشوں کے پیچھے ایران کا ہاتھ ہے"۔ انہوں نے واضح کیا کہ تہران 14 سے زیادہ حملوں میں ملوث ہے۔