.

جب برطانوی سرجن نے شامی یتیم بچوں کو بچانے کے لیے بشار الاسد کو درخواست پیش کی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یہ ایک انتہائی قابل افسوس اور مضحکہ خیز بات ہے کہ ایک غیر ملکی شخص کسی ملک یا حکومت کے سربراہ سے رابطہ کر کے اُسی سربراہ کے شہریوں کی زندگی کی بھیک مانگے۔

جی ہاں یہ واقعہ شام میں 3 برس پہلے پیش آیا جب معروف برطانوی سرجن ڈاکٹرDavid Nott نے شام میں 40 مقامی یتیموں اور دیگر محصور ڈاکٹروں کی زندگی کے لیے شامی صدر بشار الاسد سے ٹیلیفون پر رابطہ کر کے بم باری روک دینے کی درخواست کی تھی۔

ڈیوڈ ناٹ کو "War Doctor" کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہ اُس کتاب کا عنوان بھی ہے جو ڈیوڈ نے تحریر کی ہے۔ اس خطاب کی وجہ یہ ہے کہ ڈیوڈ نے جنگ سے متاثرہ علاقوں میں بکثرت سفر کیا ہے تا کہ لڑائی میں زخمی ہونے والوں اور مریضوں کا علاج کر سکیں۔ ان علاقوں میں شام، عراق، افغانستان، سیریلیون اور غزہ خاص طور پر شامل ہیں۔

ہفتے کے روز ڈاکٹر ڈیوڈ ناٹ (63 سالہ) نے ویلز میں منعقد ہونے والا سالانہ Hay Festival میں گفتگو کرتے ہوئے شرکاء کو 26 برس قبل لندن میں بشار الاسد سے ہونے والی اتفاقی ملاقات کے بارے میں تبایا۔ بعد ازاں ڈیوڈ نے 2016 میں شام کے شمالی شہر حلب میں فائرنگ اور بم باری رکوانے کے لیے ٹیلیفون کے ذریعے بشار الاسد سے رابطہ کیا۔ انہوں نے بشار سے عاجزانہ درخواست کی کہ حلب پر روسی اور شامی فورسز کی مشترکہ گولہ باری اور بم باری کو روکا جائے تا کہ محصور افراد کو وہاں سے ناکا لا جا سکے۔

کہا جاتا ہے کہ بشار الاسد 1993 میں لندن کے مشرق میں واقعWestern Eye Hospital میں آنکھوں کے تربیتی ڈاکٹر کے طور پر کام کر رہا تھا۔ وہاں اس کی ملاقات ڈاکٹر ڈیوڈ ناٹ سے ہوئی اور دونوں کا باقاعدہ تعارف ہوا۔ دل چسپ بات یہ ہے کہ اس موقع پر پوری گفتگو کے دوران ڈاکٹر ڈیوڈ ناٹ کو یہ معلوم نہ ہو سکا کہ جس شخص سے وہ بات کر رہے ہیں وہ شام کے اُس وقت کے صدر حافظ الاسد کا بیٹا ہے۔

جہاں تک حلب میں فائر بندی کے واقعے کا تعلق ہے تو اس سلسلے میں برطانوی وزارت خارجہ کے ایک عہدے دار نے ڈاکٹر ڈیوڈ سے رابطہ کیا اور کہا کہ "ہم آپ کو بشار الاسد کے دفتر کا ٹیلیفون نمبر فراہم کر سکتے ہیں"۔ ڈیوڈ نے وہ نمبر لے لیا اور پھر روزانہ صبح 6 سے لے کر 7:30 بجے تک 5 بار رابطے کی کوشش کرتا۔ اکثر مرتبہ فون پر کوئی جنرل بات کیا کرتا تھا۔ یہاں تک کہ ڈیوڈ کو اپنے مقصد میں کامیابی حاصل ہوئی اور اس کا بشار سے رابطہ ہو گیا۔ رابطہ ہونے پر ڈیوڈ نے بشار سے کہا کہ "میں ڈاکٹر ڈیوٹ ناٹ ہوں ، کیا آپ نے مجھے پہچانا؟ میں نے آپ سے 1993 میں لندن میں ملاقات کی تھی.."

اس کے بعد ڈیوڈ نے حلب میں درپیش مشکلات کی تفصیلات ذکر کیں اور بشار سے فائر بندی کی درخواست کی۔

ڈاکٹر ڈیوڈ نے فیسٹول کے شرکاء سے اپنے خطاب میں یہ نہیں بتایا کہ بشار نے اُن کی درخواست کا کیا جواب دیا۔ لہذا ایسا لگتا ہے کہ شامی صدر کی جانب سے ڈیوڈ کو مثبت جواب نہیں ملا۔

ڈیوڈ نے بشار سے کہا کہ "دیکھے جناب صدر ،،، وہاں 40 بچے ہیں اور تمام لوگ ان کا معاملہ جانتے ہیں۔ لہذا آپ ان کو بم باری کا نشانہ بنہیں بنا سکتے۔ آپ کو فائر بندی کرنا چاہیے"۔

فیسٹول میں ڈاکٹر ڈیوڈ نے مزید بتایا کہ برطانوی انٹیلی جنس کی مدد سے دسمبر 2016 میں فائر بندی کو یقینی بنایا گیا۔ اس کے نتیجے میں محصور یتیم بچوں اور ڈاکٹروں کو نجات ملی اور وہ حلب شہر سے باہر آئے۔