.

پاکستانی نژاد برطانوی وزیر داخلہ ساجد جاوید بھی وزارت ِعظمیٰ کی دوڑ میں شامل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستانی نژاد برطانوی وزیر داخلہ ساجد جاوید بھی وزارتِ عظمیٰ کی دوڑ میں شامل ہوگئے ہیں۔برطانوی وزیراعظم تھریزا مے نے بریگزٹ میں ناکامی کے بعد جمعہ کو جون میں وزارت ِ عظمیٰ کا عہدہ چھوڑنے کااعلان کردیا تھا۔تب سے وزارت ِعظمیٰ کے لیے وزیر داخلہ سمیت نو امیدوار سامنے آچکے ہیں۔

49 سالہ ساجد جاوید نے سوموار کو سوشل میڈیا پر اپنی امیدواری کا اعلان کیا ہے۔انھوں نے ایک بیان میں یورپی یونین سے برطانیہ کے انخلا ( بریگزٹ) کا وعدہ کیا ہے اور کہا ہے کہ قدامت پسند جماعت ( کنزرویٹو) کے نئے لیڈر کو ووٹروں کا اعتماد بحال کرنا ہوگا۔انھوں نے یورپی پارلیمان کے انتخابات میں تھریزا مے کی قیادت میں کنزرویٹوز کی بدترین شکست کے بعد یہ بات کہی ہے۔

انھوں نے ٹویٹر پر پوسٹ کیے گئے ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ’’ گذشتہ شب کے نتائج نے سب کچھ واضح کردیا ہے ۔ہمیں بریگزٹ کو عملی جامہ پہنانا ہوگا تاکہ ہماری جمہوریت پر اعتماد کی بحالی کی تجدید ہوسکے‘‘۔

انھوں نے مزید کہا کہ ’’ ہمیں کمیونٹیوں کے مسائل کے مداوے کے لیے تقسیم کی خلیج پاٹنا ہوگی اور خود کو متحدہ مملکت کی حیثیت سے مشترکہ اقدار کی یاددہانی کرانا ہوگی‘‘۔ساجد جاوید کے والد پاکستان سے ترک ِ وطن کرکے برطانیہ میں جا بسے تھے اور وہ بس ڈرائیور کے طور پر کام کرتے رہے تھے۔

ساجد جاوید نے پارٹی قیادت کے دوسرے امیدواروں کی طرح یہ نہیں کہا ہے کہ وہ 31 اکتوبر کو نئی ڈیڈ لائن سے قبل برطانیہ کے یورپی یونین سے کسی نئے معاہدے یا اس کے بغیر انخلا میں کامیاب ہوجائیں گے۔کنزرویٹو پارٹی کی قیادت کے دوسرے سرکردہ امیدواروں میں سابق برطانوی وزیر خارجہ بورس جانسن بھی شامل ہیں۔ انھوں نے کہا ہے کہ وہ کسی نئی ’’ نو ڈیل بریگزٹ‘‘ کے لیے تیار ہیں حالانکہ ماہرین کی جانب سے یہ انتباہ بھی جاری کیے جارہے ہیں کہ اس سے برطانیہ معاشی مسائل سے دوچار ہوسکتا ہے۔

یورپ مخالف مقبول لیڈر نیجل فراج کی بریگزٹ پارٹی نے برطانیہ میں یورپی پارلیمان کے انتخابات میں بہتر کارکردگی دکھائی ہے اور ان کی کامیابی کو کنزرویٹو ووٹروں کے وزیراعظم تھریزا مے پر غضب کا عکاس قرار دیا جارہا ہے۔ انھوں نے وزیراعظم کو بریگزٹ کی 28 مارچ کی مقررہ تاریخ تک تکمیل میں ناکامی کا ذمے دار قرار دیا ہے۔واضح رہے کہ ان کی برسلز سے ڈیل کو بھی برطانوی دارالعوام نے تین مرتبہ مسترد کردیا تھا۔

کنزرویٹو پارٹی کو یورپی پارلیمان کے انتخابات میں صرف نو فی صد ووٹ ملے ہیں۔ 1832ء کے بعد برطانیہ کی اس قدیم جماعت کسی انتخاب میں یہ بدترین کارکردگی ہے۔فراج کی نئی جماعت نے قریباً 32 فی صد ووٹ حاصل کیے ہیں اور وہ اب برسلز ( یورپی یونین) سے مذاکراتی میز پر ایک نشست کا مطالبہ کررہی ہے۔