.

ناقابل یقین: جب انگریز شہریوں نے اپنی بیگمات نیلامی میں فروخت کر ڈالیں!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

برطانیہ میں 18 ویں صدی کے اواخر سے 19 ویں صدی کے نصف تک ایسا وقت بھی آیا جب لوگوں کو اپنی بیگمات کو فروخت کرتے دیکھا گیا۔ اُس زمانے میں یہ ایک معمول کی بات تھی کہ اخبار کھولنے پر کوئی ایسا اشتہار ضرور نظر آتا جس میں کوئی اعلانیہ نیلامی میں اپنی شریک حیات کو فروخت کرنے کے لیے پیش کر رہا ہوتا تھا۔

کئی تاریخی ذرائع کے مطابق برطانیہ میں 1780 سے 1850 کے دوران بیگمات کی فروخت کے 300 سے زیادہ نیلاموں کا انعقاد ہوا۔

برطانیہ میں 1857 سے قبل طلاق کی شرائط کو منضبط کرنے والے قوانین مفقود تھے۔ لہذا شادی رشتہ ازدواج ختم کرنے کے لیے انگریز شہری پارلیمنٹ سے منظوری اور چرچ کی تائید حاصل کرنے کے لیے مجبور تھے۔

ان اعلی اداروں میں معاملہ پیش کرنے کے سبب شادی ختم کرنے کے اخراجات بہت زیادہ تھے۔ اکثر مرتبہ یہ رقم 3000 پاؤنڈز تک پہنچ جاتی تھی۔ ایسے میں صرف دولت مند اور صاحب ثروت افراد ہی اس بات کی قدرت رکھتے تھے کہ جب چاہیں اپنی شادی کو ختم کر ڈالیں۔ اس کے مقابل دیگر طبقوں کے افراد نے اپنی پُژمردہ ازدواجی زندگی پر روک لگانے کے لیے متبادل طریقوں کا سہارا لیا۔

برطانیہ کے قانون میں ایک سے زیادہ بیویوں کو رکھنے کی ممانعت کے سبب انگریز شہریوں کے لیے ممکن نہ تھا کہ وہ پہلی شادی کے اختتام سے قبل دوسری عورت سے شادی کریں۔ رشتہ ازدواج کو ختم کرنے کے اخراجات کا متحمل نہ ہونے کے مڈل کلاس اور غریب طبقے کے شادہ شدہ افراد نے اپنی بوگس ازدواجی زندگی سے چھٹکارہ پانے کے لیے اعلانیہ طور پر بیویوں کی نیلامی کا سہارا لیا۔

برطانیہ میں پسماندہ علاقوں کے اندر یہ رجحان وسیع پیمانے پر پھیل گیا جہاں عورت کو مرد کی ذاتی املاک کی فہرست میں شامل کر لیا گیا۔ لہذا وہ گھر کی چیزوں کی طرح جب چاہے اپنی بیوی کو بھی فروخت کر سکتا تھا۔

اس رجحان کے حوالے سے دستیاب معلومات کے مطابق انگریز مرد اپنی بیوی کو ساتھ لے کر عمومی بازار یا جانوروں کی فروخت کے لیے مخصوص منڈی جایا کرتا تھا۔ بعد ازاں بیویوں کو فروخت کی جانے والی اشیاء کی فہرست میں پیش کر دیا جاتا اور اس موقع پر عورت کی گردن، کمر یا کلائی میں رسی پڑی ہوتی تھی۔

اس کے بعد بیوی کو نیلامی کے بکس یا میز پر چڑھا دیا جاتا تا کہ اس کی فروخت کا عمل شروع ہو سکے۔ نیلامی کے اختتام پر شوہر، بیوی اور سب سے زیادہ قیمت لگانے والا خریدار ڈیل پوری ہونے کا جشن منانے کے لیے شراب خانے کا رخ کرتے۔

البتہ بیویوں کی فروخت ایک غیر قانونی عمل تھا جس سے انگریز حکام نے چشم پوشی کی ہوئی تھی۔ فروخت کا عمل ازدواجی مسائل ختم کرنے کے لیے محض علامتی طلاق کی شکل تھی۔

اس طرح کی فروخت کی اکثر کارروائیاں بیوی کی موافقت سے انجام پاتی تھیں۔ شوہر کے ساتھ اتفاق رائے کے بعد بیوی کسی مقررہ شخص کو فروخت کر دی جاتی۔ یہ فروخت کسی علامتی قیمت کے مقابل ہوتی جو اکثر اوقات ایک پاؤنڈ سے زیادہ نہ ہوتی تھی۔

اس حوالے سے 1733 میں برمنگھم شہر میں بیگمات کی فروخت کی ایک اولین کارروائی انجام پائی۔ اس ڈیل میں Samuel Whitehouse نامی شخص نے اپنی بیوی Mary Whitehouse کو بازار میں Thomas Griffiths نامی شخص کو ایک پاؤنڈ میں فروخت کیا۔

سال 1857 میں برطانوی پارلیمنٹ کی جانب سے طلاق کے اقدامات کو آسان بنانے کا قانون سامنے آنے کے بعد سے بیویوں کی فروخت کی کارروائیوں میں بتدریج کمی آتی گئی۔ آخر کار 20 ویں صدی کے اوائل میں یہ انوکھا رواج برطانوی معاشرے سے ختم ہو گیا۔