.

امریکا: خصوصی کونسل رابرٹ میولر کا محکمہ انصاف کو خیرباد کہنے کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا میں 2016ء میں منعقدہ صدارتی انتخابات میں روس کی مبیّنہ مداخلت کی تحقیقات کرنے والے خصوصی وکیل (کونسل) رابرٹ میولر نے محکمہ انصاف کو خیرباد کہنے کا اعلان کردیا ہے۔

رابرٹ میولر نے اپنے تقرر کے دو سال کے بعد بدھ کو محکمہ انصاف ، واشنگٹن میں پہلے عوامی بیان میں اپنی ذمے داریوں سے سبکدوش ہونے کا اعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ ان کی روس کی مداخلت سے متعلق تحقیقات مکمل ہوچکی ہیں۔

مسٹر میولر مارچ میں اپنی روس تحقیقات کی تکمیل کے بعد سےمحکمہ انصاف کے تن خواہ دار ہیں۔امریکا کے اٹارنی جنرل ولیم بار نے گذشتہ ماہ ان کی اس تحقیقاتی رپورٹ کےبعض منتخب حصے جاری کیے تھے۔

اب یہ بات واضح نہیں ہے کہ رابرٹ میولر تب سے محکمہ انصاف میں کیا کام کررہے ہیں۔ ایوانِ نمایندگان کی ڈیموکریٹس کی بالادستی کی حامل عدلیہ کمیٹی ان کے دفتر سے کانگریس کے روبرو ان کا بیان قلم بند کرنے کے لیے کوشاں ہے۔تاہم ان کے درمیان ابھی تک اس معاملے پر کوئی سمجھوتا طے نہیں پایا ہے۔

رابرٹ میولر نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا تھا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روس تحقیقات پر کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کی تھی اور انھیں صدر کے خلاف تحقیقات سے بھی روکنے کی کوشش کی تھی۔صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان کی تحقیقات کو ’’چڑیل کے شکار‘‘ کے مترادف قرار دیا تھا۔

اس رپورٹ کے مطابق جون 2017ء میں صدر ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس کے وکیل ڈان میکگاہن کو ہدایت کی تھی کہ وہ قائم مقام اٹارنی جنرل سے رابرٹ میولر کو ہٹانے کے لیے بات کریں مگر میکگاہن نے ایسا کرنے سے انکار کردیا تھا اور کہا تھا کہ وہ اس کے بجائے خود استعفا دینے کو ترجیح دیں گے۔میولر نے اس تمام حوالے سے اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ وہ واضح طور پر یہ تعیّن نہیں کرسکتے کہ صدر ٹرمپ نےمجرمانہ انداز میں انصاف کی راہ میں حائل ہونے کی کوشش کی تھی۔

یہ رپورٹ دو حصوں اور 448 صفحات پر مشتمل ہے۔میولر نےاس میں ایسے دس واقعات کی نشان دہی کی ہے جب امریکی صدر نے ممکنہ طور پر انصاف کی راہ میں حائل ہونے کی کوشش کی تھی۔ان میں ایف بی آئی کے سابق ڈائریکٹر جیمز کومے کی برطرفی ، صدر کی ماتحتوں کو میولر کو چلتا کرنے کے لیے ہدایت اور عینی شاہدین کی تحقیقاتی عمل میں تعاون نہ کرنے کے لیے حوصلہ افزائی کے واقعات شامل ہیں۔