.

امریکا پابندیاں ختم کردے تو مذاکرات ممکن ہیں: ایرانی صدر کی پیش کش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی صدر حسن روحانی نے پیش کش کی ہے کہ اگر امریکا ان کے ملک پر عاید پابندیاں ختم کردے تو اس کے ساتھ مذاکرات ممکن ہیں۔ان سے دو روز پہلے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اسی قسم کا مفاہمتی بیان دیا تھا کہ ایران کے ساتھ اس کے جوہری پروگرام پر ڈیل ہوسکتی ہے۔

صدر ٹرمپ نے سوموار کو کہا تھا:’’ مجھے اس بات میں یقین ہے کہ ایران ایک ڈیل کرنا چاہے گا اور میرے خیال میں یہ ان ( ایرانیوں ) کے لیے بہتر رہے گی اور اس کا امکان بھی ہے‘‘۔

ایرا ن کے سرکاری ٹیلی ویژن چینل نے صدر حسن روحانی کا بدھ کو ایک بیان نشر کیا ہے جس میں انھوں نے کہا ہے کہ ’’ وہ ( امریکی) جب بھی غیر منصفانہ پابندیاں ہٹا دیتے ہیں ، اپنے وعدوں کو پورا کرتے ہیں اور مذاکرات کی میز پر لوٹ آتے ہیں ،جس کو وہ خود ہی چھوڑ کر گئے تھے ، تو پھر دروازے بند نہیں ہوئے ہیں‘‘۔

انھوں نے مزید کہا :’’ ہمارے لوگ آپ کی آپ کے عملی اقدامات سے جانچ کریں گے محض زبانی جمع خرچ سے نہیں‘‘۔

ایرانی وزارت ِ خارجہ کے ترجمان عباس موساوی نے منگل کے روز ایک بیان میں کہا تھا کہ ایران کے امریکا کے ساتھ مذاکرات کے ضمن میں کوئی پیش رفت ہوتی نظر نہیں آتی ۔

اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان سخت کشیدگی پائی جارہی ہے۔ امریکا نے مشرقِ اوسط میں اپنے مفادات کو لاحق خطرات کے دفاع کے لیے مزید ڈیڑھ ہزار فوجی بھیجنے کا اعلان کیا ہے۔اس سے پہلے اس نے اپنا ایک طیارہ بردار بحری بیڑا اور بی 52 بمبار لڑاکا طیارے خطے میں بھیجے تھے۔اس کا پانچواں بحری بیڑا پہلے ہی بحرین میں لنگر انداز ہے۔

دریں اثناء امریکا کے قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن نے کہا ہے کہ متحدہ عرب امارات کے ساحلی علاقے کے نزدیک چار بحری جہازوں پر تخریبی حملہ بحری بارودی سرنگوں سے کیا گیا تھا اور یہ بات قریب قریب یقینی ہے کہ یہ حملہ ایران ہی نے کیا تھا۔

انھوں نے کہا کہ تیل بردار بحری جہازوں پر حملے کا تعلق سعودی عرب کی مشرقی ، مغربی پائپ لائن پر واقع دو پمپنگ اسٹیشنوں پر ڈرون حملے سے تھا اور عراق کے دارالحکومت بغداد کے علاقے گرین زون پر برسائے گئے راکٹ کا تعلق بھی اسی مربوط حملے سے تھا۔