.

امریکا کا "F-35" طیاروں پر ترکی کے ہوابازوں کی تربیت معطل کرنے پر غور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی نے روسی میزائل کی ڈیل کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کا مصمم ارادہ کر رکھا ہے۔ اس کے جواب میں واشنگٹن سنجیدگی کے ساتھ تُرک ہوابازوں کی "F-35" طیاروں پر تربیت کے پروگرام کو معطل کرنے پر غور کر رہا ہے۔

امریکا کے اعتراض کے باوجود انقرہ روس سے S-400 فضائی دفاعی میزائل سسٹم خریدنے پر تُلا ہوا ہے۔

اس حوالے سے نیٹو اتحاد کے دونوں رکن ممالک امریکا اور ترکی کے درمیان کئی ماہ سے تنازع جاری ہے۔ واشنگٹن کا کہنا ہے کہ روسی میزائل سسٹم نیٹو کے دفاعی نیٹ ورک سے موافقت نہیں رکھتا اور یہ امریکی F-35 طیاروں کے لیے بھی خطرہ ثابت ہو سکتا ہے جن کو ترکی خریدنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

اس سے قبل امریکی وزارت خارجہ کے ایک عہدے دار خبردار کر چکے ہیں کہ کہ روسی میزائل کی وصولی کا عمل مکمل ہونے کی صورت میں انقرہ کو اس کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔

امریکی وزارت دفاع (پینٹاگان) کے ایک ذمے دار کے مطابق ترکی کے لیے F-35 طیارے اور پیٹریاٹ میزائل حاصل کرنا ممکن نہیں ہو سکے گا۔

نیٹو اتحاد کے رکن ترکی کو آئندہ ماہ زمین سے فضا میں مار کرنے والاS-400 روسی میزائل نظام حاصل کرنا ہے۔

امریکا کا خیال ہے کہ ترکی کی جانب سے S-400 دفاعی نظام خریدے جانے کی صورت میں امریکی F-35 طیاروں کے عسکری راز کا انکشاف ہو سکتا ہے۔ مذکورہ طیارے کے متعلق خیال ہے کہ وہ روس کے اس دفاعی میزائل نظام سے بچ نکلنے پر قادر ہے۔

واشنگٹن نے دسمبر 2018 میں نیک نیتی کی دلیل کے طور پر ترکی کو میزائل شکن پیٹریاٹ نظام فروخت کرنے کی منظوری دی تھی تا کہ انقرہ کو روسی میزائلوں کی عدم خریداری پر قائل کیا جا سکے۔ تاہم ایردوآن کا موقف ہے کہ روسی ہتھیاروں کے سمجھوتے سے پیچھے ہٹنے کی کوئی گنجائش نہیں۔

یورپ میں نیٹو کی افواج کے اعلی کمانڈر امریکی جنرل کورٹس اسکاپیروٹی کے مطابق ترکی نے واقعتا S-400روسی نظام خریدا تو "ہم روس کے میزائل شکن نظام کی موجودگی میں F-35 طیاروں کی اڑان کی اجازت نہیں دے سکتے"۔

واشنگٹن نے جون 2018 میں امریکی F-35طیاروں کی پہلی کھیپ ترکی کے حوالے کی تھی۔ تاہم یہ طیارے فی الحال امریکا میں ہی رہیں گے تا کہ ترک پائلٹوں کو اس کی تربیت دی جا سکے۔ پینٹاگون کے مطابق یہ تربیتی عمل ایک سے دو سال کی مدت کا ہو سکتا ہے۔ ایسا نظر آ رہا ہے کہ امریکا کی جانب سے یہ تربیتی پروگرام معطل ہونے کے قریب ہے۔