.

ترکی کو "S-400" میزائل سسٹم وقت سے پہلے حوالے کیا جائے گا : روس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روسی ایوان صدر کے سرکاری ترجمان دمتری بیسکوف کا کہنا ہے کہ ترکی کو "S-400" میزائل سسٹم کی فراہمی انقرہ کی درخواست پر مقررہ وقت سے پہلے یقینی بنائی جائے گی اور اس حوالے سے کوئی تاخیر نہیں پائی جاتی۔

روسی خبر رساں ایجنسی "اسپٹنک" کے مطابق بیسکوف نے بدھ کے روز اپنے بیان میں کہا کہ "ترکی کی جانب سے درخواست کی بنا پر یہ میزائل سسٹم طے شدہ حتمی وقت سے قبل انقرہ کے حوالے کیا جائے گا۔ ہر چیز منصوبہ بندی کے مطابق درست سمت میں چل رہی ہے"۔

روس کا یہ موقف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب واشنگٹن سنجیدگی کے ساتھ تُرک ہوابازوں کی "F-35" طیاروں پر تربیت کے پروگرام کو معطل کرنے پر غور کر رہا ہے۔ اس لیے کہ امریکا کے اعتراض کے باوجود انقرہ روس سے S-400فضائی دفاعی میزائل سسٹم خریدنے پر تُلا ہوا ہے۔

اس حوالے سے نیٹو اتحاد کے دونوں رکن ممالک امریکا اور ترکی کے درمیان کئی ماہ سے تنازع جاری ہے۔ واشنگٹن کا کہنا ہے کہ روسی میزائل سسٹم نیٹو کے دفاعی نیٹ ورک سے موافقت نہیں رکھتا اور یہ امریکی F-35طیاروں کے لیے بھی خطرہ ثابت ہو سکتا ہے جن کو ترکی خریدنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

اس سے قبل امریکی وزارت خارجہ کے ایک عہدے دار خبردار کر چکے ہیں کہ کہ روسی میزائل کی وصولی کا عمل مکمل ہونے کی صورت میں انقرہ کو اس کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔