.

حوثیوں کا غیر انسانی اقدام: صنعاء میں غریبوں کے لیے مخصوص تندور بند

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں ایرانی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا کی طرف سے انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

امدادی سامان کی لوٹ مار، فلاحی شعبے میں کام کرنے والی تنظیموں کی سرگرمیوں میں مداخلت، امدادی سامان لانے والی گاڑیوں پر قبضے اور تجارتی سامان پر اپنی اجارہ داری قائم کرنے کے بعد حوثی ملیشیا نے ایک اور غیر انسانی اقدام کرتے ہوئے صنعاء میں قائم کئی بیکریاں [تندور] بند کر دیئے ہیں حالانکہ ان میں سے بیشتر تندور غریب اور بے سہارا شہریوں کو روٹی فراہمی میں مدد کر رہے تھے۔

صنعاء کے مقامی ذرائع نے بتایا کہ حوثی ملیشیا نے دارلحکومت میں موجود تمام بیکریوں پر نیا ٹیکس عاید کیا ہے اور ان سے زکاۃ کے نام پر رقوم بٹوری جا رہی ہے۔ حوثی شدت پسندوں‌ نے نہ صرف زکاۃ کی وصولی کی آڑ میں بیکریوں سے رقم جمع کرنا شروع کی ہے بلکہ خود ساختہ ٹیکس نہ دینے والی کئی بیکریاں بند کردی ہیں۔ یہ بیکریاں غربت کے شکار شہریوں کا آخری سہارا ہیں۔

یمن میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں‌ نے حوثیوں کے انسان دشمن اقدام کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ انسانی حقوق گروپوں‌ کا کہنا ہے کہ صنعاء میں دودھ کی مصنوعات کا شدید بحران ہے۔ دودھ کی قیمتیں تین گنا بڑھنے اور حوثیوں‌ کی اجارہ داری بڑھنے کے بعد دودھ بھی بلیک مارکیٹ میں فروخت ہو رہا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ صنعاء میں شہریوں‌ کے امور میں حوثی ملیشیا کی مداخلت سے انسانی فلاح وبہبود کی سرگرمیاں نہ ہونے کے برابر رہ گئی ہیں اور حوثی شدت پسند ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت صنعاء میں امدادی سامان کی ترسیل روکے ہوئے ہیں۔

حوثی ملیشیا کی ایسی سرگرمیوں‌ کے بعد اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے عالمی ادارہ خوراک نے خبردار کیا ہے کہ حوثیوں کے زیر تسلط علاقوں میں امدادی آپریشن روکا جا سکتا ہے اور اس کی تمام تر ذمہ داری حوثی ملیشیا پر عاید ہو گی۔