.

قاسم سلیمانی نے عراقی ملیشیاؤں کو ہم پر حملوں کے لیے اُکسایا : جان بولٹن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن کا کہنا ہے کہ ایران کے جوہری ہتھیار حاصل کرنے کے خطرے کے حوالے سے سعودی عرب ، امارات اور امریکا کا متفقہ موقف ہے۔

انہوں نے یہ بات بدھ کے روز متحدہ عرب امارات کے دارالحکومت ابوظبی میں امریکی سفارت خانے میں صحافیوں سے گفتگو میں کہی۔

بولٹن کا کہنا تھا کہ "قاسم سلیمانی کی جانب سے عراق میں ہم پر حملوں کے لیے شیعہ ملیشیاؤں کے استعمال پر گہری تشویش محسوس کر رہے ہیں"۔

انہوں نے مزید کہا کہ "ہم خطے میں اپنے حلیفوں کے ساتھ مشاورت کر رہے ہیں تا کہ خلیج میں ایران اور اس کے ایجنٹوں کی سرگرمیوں کا جواب دیا جا سکے"۔

امریکی مشیر کے مطابق اُن کا ملک خطے میں ایران اور اس کے ایجنٹوں کی جانب سے کسی بھی خطرے کا پوری طاقت سے جواب دے گا۔

بولٹن نے واضح کیا کہ اگر حملے ہوئے تو اس کا ذمے دار ایرانی پاسداران انقلاب کی ذیلی تنظیم القدس فورس کو ٹھہرایا جائے گا۔

امریکی مشیر کا کہنا تھا کہ یہ بات قریبا یقینی ہے کہ امارات کے ساحل کے مقابل بحری جہازوں پر حملے کے پیچھے ایران کا ہاتھ ہے۔ بولٹن کے مطابق چاروں بحری جہازوں کو سمندری بارودی سرنگوں کے ذریعے حملے کا نشانہ بنایا گیا جو یقینا ایران کی تھیں۔

جان بولٹن ابوظبی کے ولی عہد شیخ محمد بن زاید اور امارات کے قومی سلامتی کے مشیر شیخ طحنون بن زاید سے ملاقات میں دو طرفہ خصوصی تعلقات اور خطے میں کشیدگی پر تبادلہ خیال کریں گے۔

امریکی قومی سلامتی کے مشیر منگل کی رات امارات پہنچے تھے۔