آسٹریلوی سینیٹر کی انڈے سے ’تواضع‘ کرنے والے نوجوان کا ایک اور انسان دوست اقدام

17 سالہ ول کونولی نے مقدمے کے لئے بھجوائی گئی رقم خطیر رقم کرائسٹ چرچ شہداء کے لواحقین کو عطیہ کر دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

آسٹریلیا کے اسلام مخالف سیاست دان سینیٹر فریزر ایننگ کے سر پر بطور احتجاج انڈہ پھوڑ کر شہرت پانے والے نوجوان ول کونولی نے کرائسٹ چرچ حملے کے شہداء کے ورثاء لئے 70 ہزار ڈالر کی خطیر رقم کا عطیہ دیا ہے۔

آسٹریلیا کے 17 سالہ ول کونولی دائیں بازو کی جماعت سے تعلق رکھنے والے آسٹریلوی سینیٹر فریزر ایننگ کو انڈے کا نشانہ دنیا بھر میں 'ایگ بوائے' کے نام سے مشہور ہو گیا تھا۔ آسٹریلوی سینیٹر کا کہنا تھا کہ ’’مسلمان اپنے قتل عام کے خود ذمہ دار ہیں کیوںکہ ان کی ہجرت ہی ان پر ہونے والے مظالم کی وجہ ہے۔‘‘

ول کونولی کے دنیا بھر میں پائے جانے والے مداحوں نے اس کی قانونی جنگ میں مدد کے لئے تقریبا 70 ہزار ڈالر کی رقم جمع کی تاکہ وہ اپنے لئے باقاعدہ وکیل کر سکے۔

آسٹریلیا کی ایک لاء فرم نے کونولی کا کیس مفت لڑنے کی پیش کش کی تھی مگر اس پر آسٹریلوی پولیس نے کوئی چارج عاید نہیں کیا جس کے بعد ول کونولی نے اپنے لئے جمع ہونے والی رقم کو کرائسٹ چرچ سے متاثرین کے نام کرنے کا اعلان کیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں