.

امیگریشن سے متعلق ٹویٹ کے سبب ریپبلکن سینیٹر کی الہان عمر پر تنقید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی ریاست ٹیکساس سے تعلق رکھنے والے ریپبلکن سینیٹر ٹیڈ کروز نے کانگرس کی ڈیموکریٹ رکن الہان عمر کو کڑی نکتہ چینی کا نشانہ بنایا ہے۔ یہ تنقید الہان کی جانب سے پوسٹ کی گئی ایک ٹویٹ کو حذف کر دینے کے بعد سامنے آئی ہے۔

الہان نے اپنی ٹویٹ میں کہا تھا کہ امریکا میں میرٹ کی بنیاد پر امیگریشن سسٹم سے لاطینی مہاجرین کو نقصان پہنچے گا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے رواں ماہ امیگریشن سسٹم کی اصلاح کے منصوبوں کا انکشاف کیا تھا جس میں میرٹ پر قائم نظام بھی شامل ہے۔ اس نظام کے تحت مہاجرین کو ان کی مالی حیثیت، عملی مہارت اور تعلیم کی بنیاد پر امریکا میں داخلے کی اجازت دی جائے گی۔

الہان عمر نے منگل کی شب ایک ٹویٹ میں ٹرمپ کی تجویز پر تنقید کی تھی۔ اس کے بعد سے یہ ٹویٹ الہان کے اکاؤنٹ سے حذف ہو چکی ہے۔

الہان نے لکھا تھا کہ "میرٹ کی بنیاد پر قائم امیگریشن پالیسی سے لاطینی برادری کے حوالے سے نسل پرستی میں اضافہ ہو گا۔ ہمارے یہاں امیگریشن پالیسی کا انحصار کسی امتیاز، خوف یا تعصب پر نہیں ہونا چاہیے۔ ہم اپنے ملک میں مہاجرین کا خیر مقدم کریں اور انہیں شہری بنانے کے لیے آسان طریقہ پیش کریں"۔

ریپبلکن سینیٹر ٹیڈ کروز نے ڈیموکریٹک پارٹی کو تنقید کا نشانہ بنایا اور ان کی اس سوچ پر نکتہ چینی کی کہ "ہسپانوی نژاد مہاجرین کے لیے مہارتوں کی بنیاد پر قانونی امیگریشن کا اہل ہونا ممکن نہیں"۔

یاد رہے کہ کروز خود جنوبی امریکا کے لاطینی نژاد ہیں۔ انہوں نے کہا کہ "میں خود کیوبا سے آنے والے ایک مہاجر کا بیٹا ہوں جو ریاضی میں ڈگری کے حصول کے واسطے آئے تھے اور کمپیوٹر پروگرامر بن گئے"۔

کروز نے اپنی ٹویٹ میں مزید کہا کہ سائنس دانوں ، انجینئروں اور ڈاکٹروں کے لیے پُرکشش ہونا امریکی ملازمتوں کے لیے ایک اچھا امر ہے۔

الہان عمر نے ٹیڈ کروز کی جانب سے اُن پر کی گئی تنقید پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔