.

کیا #ترکی #خلیفہ_حفتر کی فوج کے مدمقابل لیبی قومی حکومت کی ملیشیاؤں کو تربیت دے رہا ہے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا کے کمانڈر خلیفہ حفتر کے زیر کمان قومی فوج ( ایل این اے) نے ایک ویڈیو جاری کی ہے۔ اس میں ترکی کے فوجی ٹرینر طرابلس کی ایک ملیشیا کے جنگجوؤں کو ترک ساختہ بکتر بند گاڑیوں کو چلانے کی تربیت دے رہے ہیں۔

لیبی قومی فوج کے دفترِ اطلاعات کے ایک بیان مطابق یہ فوٹیج لیبیا کی قومی اتحاد (جی این اے) کے تحت فورسز کے گرفتار کیے گئے ایک جنگجو کے موبائل فون سے ملی تھی۔ اس میں بعض افراد کو ترک زبان میں گفتگو کرتے ہوئے سنا جا سکتا ہے اور ایک شخص جی این اے کی ملیشیا کے جنگجوؤں کو یہ بتا رہا ہے کہ گاڑی کی لائٹیں کیسے بند کرنی ہیں اور حفاظتی سکرین کو کیسے چڑھایا جاتاہے۔ البتہ فوٹیج سے یہ واضح نہیں کہ انسٹرکٹر کوئی ترک فوجی ہے یا کوئی نجی فوجی انسٹرکٹر ہے۔

ترکی کی لیبیا کے تنازع میں مداخلت سے علاقائی سلامتی کے حوالے سے تشویش کا اظہار کیا گیا ہے کیونکہ اس سے لیبیا میں جاری فوجی تنازع طول پکڑ سکتا ہے جبکہ فیلڈ مارشل خلیفہ حفتر کے زیر قیادت لیبی قومی فوج نے طرابلس پر کنٹرول کے لیے چڑھائی کر رکھی ہے اور اس کی قومی اتحاد کی حکومت کے تحت فورسز کے ساتھ کم وبیش روزانہ ہی خونریز جھڑپیں ہو رہی ہیں۔ انھوں نے حال ہی میں فرانسیسی میڈیا سے انٹرویو میں کہا ہے کہ ’’وہ دارالحکومت کو پرائیویٹ ملیشیاؤں اور انتہا پسند گروپوں سے پاک کرنا چاہتے ہیں‘‘۔

طرابلس میں ترکی کی حمایت یافتہ جی این اے نواز اسلامی ملیشیاؤں کے بارے میں عراق اور شام سے غیر ملکی جنگجوؤں کی لیبیا میں منتقلی کے لیے سہولت کار کا کردار ادا کرنے کا بھی شُبہ ہے۔ یونیورسٹی آف ایکسٹر کے پروفیسر جوناتھن گتھنس مازر کے بہ قول ’’خلیفہ حفتر کے خلاف جنگ اب اسلامی پہلوؤں سے ایک طرح کا جہاد بن چکی ہے‘‘۔

گذشتہ اختتام ہفتہ پر ایک مطلوب دہشت گرد محمد بن دارف المعروف بابر کی جی این اے نواز ایک ملیشیا کی جانب سے لڑتے ہوئے ہلاکت کی اطلاع سامنے آئی تھی۔ بن داردف لیبیا کے اٹارنی جنرل کو 2012 میں مشرقی شہر بنغازی میں امریکی سفیر کرس اسٹیونز کی ہلاکت کے واقعے میں مطلوب تھے۔ وہ امریکی قونصل خانے پر مسلح افراد کے حملے میں چار اور امریکیوں سمیت مارے گئے تھے۔

ترکی طرابلس کا دفاع کرنے والی جن ملیشیاؤں کی حمایت کر رہا ہے، ان میں الصمود بریگیڈ بھی شامل ہے۔ اس طاقتور ملیشیا کے کمانڈر صالح بادی ہیں۔ الصمود ملیشیا ماضی میں جی این اے اور لیبیا میں جاری بحران کے سیاسی حل کی مخالفت کرتی رہی ہے۔ اقوام متحدہ نے گذشتہ سال نومبر میں صالح بادی کا نام پابندیوں کا شکار افراد اور تنظیموں کی فہرست میں شامل کر لیا تھا۔ ان کے بریگیڈ ہی نے ترکی سے بھیجے گئے فوجی ساز وسامان اور بکتر بند گاڑیوں کو 19 مئی کو طرابلس کی بندرگاہ پر وصول کیا تھا۔ بن داردف کے بارے میں ان کی ہلاکت کے بعد یہ پتا چلا ہے کہ وہ الصمود بریگیڈ کی جانب سے ہی لڑتے ہوئے مارے گئے ہیں۔

ترکی سے فوجی کمک کی آمد کے بعدطرابلس سے تعلق رکھنے والی ایک سخت گیر ملیشیا مرسہ بریگیڈ نے اپنے فیس بُک صفحے پر مشین گنوں، اسنائپر رائفلوں، ٹینک شکن اور طیارہ شکن میزائلوں کی تصاویر پوسٹ کی تھیں۔ وہ تازہ تازہ ڈبوں میں بند نظر آ رہے تھے جس سے یہ اندازہ لگایا گیا تھا کہ وہ بھی ترکی سے بھیجے گئے اسلحہ کی کھیپ میں شامل تھے اور انھیں طرابلس کے دفاع میں لڑنے والے جنگجوؤں میں تقسیم کرنے کے لیے بھیجا گیا تھا۔

امریکا کے سرغراسانی کے ایک جائزے کے مطابق شام کے مغربی صوبے ادلب سے تعلق رکھنے والے جنگجو طرابلس کی انقلابی بریگیڈ کے ساتھ مل کر پہلے محاذ پر خلیفہ حفتر کی فوج کے خلاف لڑ رہے ہیں۔ وسیع جنگی تجربے کے حامل شامی جنگجوؤں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ ماضی میں شام میں القاعدہ سے وابستہ النصرۃ محاذ سے کی صفوں میں شامل رہے تھے۔ لیبیا میں ان کی تعداد ڈیڑھ سے دو سو کے درمیان بتائی جاتی ہے۔

امریکا کے اس انٹیلی جنس جائزے کی لیبیا میں اقوام متحدہ کے امدادی مشن نے بھی جزوی طور پر تائید کی ہے۔اس نے اسی ہفتے ٹویٹر پر ایک بیان میں کہا تھا کہ ’’لیبیا میں حقیقی تشویش تو اب پیدا ہو رہی ہے اور سجائے گئے تھیٹر کی جانب انتہا پسند عناصر اور گروپ بھی مائل ہورہے ہیں‘‘۔

اسی ہفتے انصار الشریعہ کے بنغازی سے تعلق رکھنے والے ایک سخت گیر جنگجو عادل الربیع کی تصویر بھی منظر عام پر آئی تھی اور وہ جی این اے کی فورسز کے ساتھ مل کر طرابلس میں لڑ رہا تھا حالانکہ اس کے بارے میں یہ خیال کیا جاتا تھا کہ وہ 2017ء میں ہلاک ہو گیا تھا۔

ترکی نے 18 مئی کو مال بردار بحری جہاز ’’امازون‘‘ کے ذریعے جو فوجی سامان طرابلس بھیجا تھا، اس کھیپ میں ترکی کی ساختہ 40 بکتر بند گاڑیاں شامل تھیں اور مذکورہ ویڈیو فوٹیج میں ان ہی گاڑیوں کے بارے میں جی این اے کی فورسز کو تربیت دی جارہی تھی۔ خلیفہ حفتر کی قومی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے اب تک ان میں سے چودہ گاڑیوں کو تباہ کر دیا ہے۔ انھیں روسی ساختہ کورنیت ٹینک شکن میزائلوں سے تباہ کیا گیا تھا۔ لیبیا نے مقتول صدر کرنل معمر قذافی کے دور میں روس سے یہ میزائل خرید کیے تھے۔

تاہم ترکی سے جی این اے کی فورسز کے لیے فوجی کمک آنے کے بعد سے خلیفہ حفتر کی طرابلس کو مفتوح بنانے کے لیے مہم سست روی کا شکار ہو چکی ہے۔ امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے منگل کے روز مصری ہم منصب سامح شکری سے لیبیا میں جاری بحران کے فوری سیاسی حل کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا تھا تاکہ ملک کو مزید لڑائی کا شکار ہونے سے بچایا جا سکے۔ واضح رہے کہ مصر لیبیا کی قومی حکومت کے بجائے خلیفہ حفتر کی مدد وحمایت کر رہا ہے۔