.

اسرائیل میں داخلی ’’تبدیلیوں‘‘ کے باوجود مناما کانفرنس وقت پر ہو گی: امریکا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی وزارتِ خارجہ نے جمعرات کے روز وضاحت کی ہے کہ اسرائیل میں کنیسٹ کے دوبارہ انتخابات کے اعلان اور داخلی سیاسی مسائل کے باوجود مشرق وسطیٰ کے لیے امریکی امن روڈ میپ کے تحت بحرین میں‌ اقتصادی کانفرنس جون کے آخر میں اپنے شیڈول کے مطابق منعقد کی جائے گی۔

امریکی وزارت خارجہ کی ترجمان مورگان اورٹیگوس نے ایک بیان میں کہا کہ 25 اور 26 جون کو بحرین کے دارالحکومت مناما میں ہونے والی عالمی اقتصادی کانفرنس کی تاریخ میں کوئی تبدیلی نہیں کی جا رہی ہے۔ یہ کانفرنس اپنے مقررہ وقت پر ہو گی۔

ادھر ایک امریکی عہدیدار نے بتایا ہے کہ اسرائیل میں‌ داخلی سیاسی تبدیلیوں کے باوجود ٹرمپ انتظامیہ مناما اقتصادی کانفرنس کے انعقاد کے لیے پرعزم ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشیر جیرڈ کوشنر نے سنہ 1967ء کے بعد پہلی بار امریکا کا تیار کردہ اسرائیل کا نقشہ نیتن یاھو کو پیش کیا جس میں مقبوضہ وادی گولان کو اسرائیلی ریاست کا حصہ قرار دیا گیا ہے۔

جمعرات کے روز امریکی ایلچی جیرڈ کوشنر اور مشرق وسطیٰ کے لیے امریکی امن مندوب جیسن گرین بیلٹ پر مشتمل وفد نے یروشیلم میں نیتن یاھو کے دفتر میں ان سے ملاقات کی۔ ملاقات میں ایران کے لیے امریکی ایلچی برائن ہُک اور امریکا میں اسرائیلی سفیر رون دیرمر بھی موجود تھے۔

جمعرات کو ایک امریکی عہدیدار نے بتایا کہ ٹرمپ انتظامیہ مشرق وسطیٰ میں قیام امن کے تناظر میں جون کے آخر میں بحرین میں عالمی اقتصادی کانفرنس کےانعقاد کے لیے پرعزم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ اسرائیل میں کنیسٹ کے دوبارہ انتخابات کے لیے انتخابی مہم جاری ہو گی مگر ہم بحرین میں اقتصادی کانفرنس کا انعقاد ضرور کریں گے۔

نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر امریکی عہدیدار نے بتایا کہ اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان تنازع کے حل کا سیاسی پہلو فی الحال صیغہ راز میں ہے اور مناسب وقت پر اس کا اعلان کیا جائے گا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشیر جیرڈ کوشنر مشرق وسطیٰ کے لیے مجوزہ امریکی امن پلان کو سامنے لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس سے قبل وہ اپریل میں ہونے والے انتخابات کے بعد یا ماہ صیام کے اختتام پر اس منصوبے کا اعلان کرنے والے تھے۔

تاہم اس وقت اسرائیل میں 9 اپریل کو ہونے والے انتخابات میں سیاسی جماعتیں حکومت کی تشکیل میں‌ ناکام رہی ہیں۔ جمعرات کو اسرائیلی وزیراعظم نے حکومت کی تشکیل میں‌ ناکامی کے بعد 17 ستمبر کو دوبارہ کنیسٹ کے انتخابات کرانے کا اعلان کیا تھا۔

جیرڈ کوشنر نےعندیہ دیا ہے کہ وہ آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے اسرائیل پر زیادہ دباؤ نہیں ڈالیں گے۔

ادھر فلسطینی اتھارٹی نے امریکا سے اختلافات کے بعد بحرین میں ہونے والی اقتصادی کانفرنس کے بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے۔ فلسطینی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت قرار دے کر امریکا غیر جانب دار ثالث کی حیثیت کھو چکا ہے۔