.

انقلاب کی گاڑی امن کی پٹری سے نیچے اُتر گئی ہے: سوڈانی عسکری کونسل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سوڈان میں ’تبدیلی اور آزادی فورسز‘ کی جانب سے منگل اور بدھ کو دو روز جاری رہنے والی ہڑتال کے بعد لاکھوں مظاہرین دارالحکومت خرطوم کے وسط میں سول حکومت کا مطالبہ کرنے کے لیے جمع ہو گئے۔

سوڈان کی عبوری عسکری کونسل کا کہنا ہے کہ "دھرنے کا میدان ملک اور انقلاب کے لیے خطرہ بن چکا ہے"۔ کونسل کا یہ موقف دھرنے کے اطراف فائرنگ کے نتیجے میں کئی افراد کے ہلاک اور زخمی ہونے کے بعد سامنے آیا ہے۔ سوڈان کے ڈاکٹروں کی کمیٹی نے ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے۔

خرطوم میں وسطی فوجی زون کے کماندار میجر جنرل بحر احمد بحر نے شرپسند عناصر پر الزام عائد کیا کہ انہوں نے دھرنے کے مقام کے نزدیک فوری مددگار فورس کی گاڑی پر حملہ کر کے اس پر قبضہ کر لیا۔ سرکاری ٹیلی وژن پر جاری ایک بیان میں انہوں نے واضح کیا کہ "دھرنے کا مقام غیر محفوظ ہو چکا ہے اور یہ انقلاب اور انقلابیوں کے علاوہ ملکی سیکورٹی کے لیے بھی خطرہ بن گیا ہے"۔

یاد رہے کہ تبدیلی اور آزادی فورسز نے عام ہڑتال کے بعد سول نافرمانی کا عندیہ دیا تھا۔ اس کا مقصد عسکری کونسل پر دباؤ ڈالنا ہے تا کہ وہ ملک کا اقتدار ایک شہری اکثریت کی حامل کونسل کے حوالے کر دے۔

یہ پیش رفت فریقین کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ موقوف ہونے کے بعد سامنے آئی ہے۔