.

ایران حوثیوں کی ہر ممکن مدد کررہا ہے: کمانڈر سپاہِ پاسداران انقلاب کا اعتراف

پاسداران انقلاب یقینی طور پر یمن میں نہیں ،اگر وہاں ہوتے تو حوثی اب تک الریاض پہنچ چکے ہوتے: انٹرویو میں دعویٰ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کی سپاہِ پاسداران انقلاب کے نائب کمان دار ایڈمرل علی فدوی نے اعتراف کیا ہے کہ ’’ان کا ملک یمنی حوثیوں کی ہر ممکن مدد کررہا ہے لیکن وہ یمن کی ناکا بندی کی وجہ سے ان کی اتنی مدد نہیں کر پا رہا ہے جتنی کہ وہ کرسکتا ہے یا کرنا چاہتا ہے‘‘۔

علی فدوی نے جمعہ کو ایران کے چینل 3 سے نشر ہونے والے انٹرویو میں کہا ہے کہ ’’اگر اسلامی انقلاب بالکل اسی طرح یمن میں گھستا جس طرح وہ شام میں گیا ہے تو پھر تصور کریں کہ یمن کی کیا صورت حال ہو سکتی تھی ؟ کیا صورت حال موجودہ شکل ایسی ہوتی ؟ بالکل نہیں ،ایسی بالکل بھی نہیں ہوتی‘‘۔ ان کا یہ انٹرویو بی بی سی فارسی نے بھی رپورٹ کیا ہے۔

انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’’ قرآن کی بنیاد پر ہم مقدور بھر مدد دینے کے پابند ہیں اور ہم یہ مدد دے بھی رہے ہیں‘‘۔

مسٹر علی فدوی کے بہ قو ل ’’یمن کے ’’ مکمل محاصرے‘‘ کی وجہ سے سپاہِ پاسداران انقلاب ایران حوثیوں کی بھرپور طریقے سے مدد نہیں کرسکتی ہے۔ حوثی اپنا نظم ونسق خود چلا رہے ہیں۔ وہ ہماری طرح ہی کے نتائج حاصل کررہے ہیں کیونکہ وہ اسلامی انقلاب کے اصولوں کے مطابق ہی کام کر رہے ہیں‘‘۔

ان کا کہنا تھا:’’ لیکن ہم یقینی طور پر وہاں (یمن میں ) موجود نہیں ہیں ۔اگر ہم وہاں ہوتے تو حوثی اب تک ( سعودی دارالحکومت) الریاض پہنچ چکے ہوتے‘‘۔