.

روس سے میزائل نظام خرید کرنے پر امریکا کی پابندیاں ترکی پر کیا اثرات مرتب کریں گی؟

ایڈم ناتھن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی روس سے میزائل دفاعی نظام ایس- 400 خرید کرنے پر مُصر ہے۔اس صورت میں اس کو امریکا کی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے گی اور یہ اس کی معیشت اور کرنسی پر منفی اثرات مرتب کریں گی جبکہ معاہدہ شمالی اوقیانوس کی تنظیم ( نیٹو) میں اس کی پوزیشن بھی متاثر ہوگی۔

اگر ترکی اور امریکا کے درمیان روس سے میزائل دفاعی نظام کی خریداری کے معاملے پر کوئی مفاہمت نہیں ہوتی ہے اور اس کا امکان بھی کم ہی نظر آرہا ہے تو پھر امریکا کے پابندیوں کے اقدام کے ردعمل میں ترکی بھی جوابی پابندیاں عاید کرسکتا ہے لیکن ان سے خود ا س کی معیشت ہی پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔گذشتہ سال امریکا کی پابندیوں سے ترکی کی کرنسی لیرا پر نمایاں منفی اثرات مرتب ہوئے تھی اور ڈالر کے مقابلے میں کی قدر میں 30 فی صد تک کمی واقع ہوگئی تھی۔

آکسفورڈ یونیورسٹی ، برطانیہ کے شعبہ سیاسیات اور بین الاقوامی تعلقات کے اسکالر گیلپ دالے کہتے ہیں:’’ امریکا اور ترکی کے درمیان معاملہ بڑا پیچیدہ نظر آرہا ہے ۔امریکی اور ترک حکام کے مطابق یہ ایک وسیع تر جغرافیائی سیاسی توازن کا بھی عکاس ہے۔ پابندیوں کے ترکی کے لیے منفی مضمرات مرتب ہوں گے لیکن شاید ان سے ترکی کی امریکا سے تعلق داری میں انقطاع کی نوبت نہ آئے۔

امریکا نے اس سال کے اوائل میں روس سے میزائل دفاعی نظام ایس -400 کی خریداری پر اصرار کے ردعمل میں ترکی کو لاک ہیڈ مارٹن کارپوریشن کے ساختہ ایف 35 لڑاکا جیٹ کے آلات مہیا کرنے کا عمل روک دیا تھا ۔امریکا کا اپنے نیٹو اتحادی ملک کے خلاف یہ پہلا ٹھوس اقدام تھا ۔ترک صدر رجب طیب ایردوآن اس بات پر مُصر ہیں کہ امریکا جو کچھ بھی کہتا رہے، ترکی روس سے ایس- 400 میزائل دفاعی نظام کی خریداری کے سودے سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔ اس کے ردعمل میں امریکا نے ترکی کو ایف 35 لڑاکا جیٹ مہیا کرنے کا عمل بھی منجمد کرنے کا اعلان کر دیا تھا ۔

ترکی کا موقف ہے کہ اس کے اپنی علاقائی خودمختاری کے دفاع کے لیے اقدامات سے اس کے اتحادیوں کو تو کوئی خطرات لاحق نہیں ہوسکتے اور اس نے نیٹو کے تمام تقاضوں کو پورا کیا ہے۔ دونو فریق امریکا کی نام نہاد کاٹسا پابندیوں سے بچنے کی خواہش کا بھی اظہار کرچکے ہیں۔اس امریکی قانون کے تحت روسی ساختہ طیارہ شکن ہتھیار جو نہی ترکی کی سرزمین پر پہنچیں گے تو اس پر ازخود ہی پابندیاں عاید ہوجائیں گے۔ روس سے میزائل دفاع نظام کی جولائی میں ترکی میں آمد متوقع ہے۔

ترک وزیر دفاع حلوسی عکار نے گذشتہ ہفتے ایک بیان میں یہ اطلاع دی تھی کہ روس سے خرید کیے جانے والے میزائل دفاعی نظام ایس- 400 کی تربیت کے لیے اپنے فوجی اہلکاروں کو ماسکو بھیج دیا گیا ہے اور روس سے ماہرین بھی آیندہ مہینوں کے دوران میں ترکی آئیں گے۔ اس اطلا ع کے ردعمل میں امریکا ریاست ایریزونا میں ایف 35 لڑاکا طیاروں پر ترک پائلٹوں کو تربیت دینے کا عمل روکنے پر بھی غور کررہا ہے۔

امریکا کا کہنا ہے کہ ترکی بیک وقت یہ جدید لڑاکا طیارے اور روس سے میزائل دفاعی نظام خرید نہیں کرسکتا ۔ امریکا نے روس سے میزائل دفاعی نظام کی خریداری کے سودے سے دستبرداری کی صورت میں ترکی کو اس کے ہم پلّہ ’رے تھیون کو پیٹریاٹ دفاعی نظام ‘فروخت کرنے کی بھی پیش کش کی تھی۔وزیر دفاع حلوسی عکار کا کہنا تھا کہ ترکی امریکا کی اس میزائل نظام کی خریداری کی پیش کش کا ابھی جائزہ لے رہا ہے۔اس پیش کش کی مدت 4 جون کو ختم ہوگی ۔

ترکی کے روس سے میزائل دفاعی نظام خرید کرنے کے فیصلے سے اس کے نیٹو اتحادی بھی تشویش میں مبتلا ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ یہ میزائل دفاعی نظام معاہدہ شمالی اوقیانوس کی تنظیم کے فوجی آلات سے مطابقت نہیں رکھتا ہے۔امریکا اور اس کے ایف -35 لڑاکا جیٹ رکھنے والے نیٹو اتحادی ممالک کو یہ خدشہ لاحق ہے کہ روسی ساختہ میزائل دفاعی نظام کے ذریعے ان لڑاکا جیٹ طیاروں کا سراغ لگانے اور روکنے کا پتا چل جائے گا اور اس طرح مستقبل میں روسی ساختہ ہتھیاروں سے بچاؤ مشکل ہوجائے گا۔

اگر روس اپنا میزائل دفاعی نظام ترکی کو مہیا کر دیتا ہے تو پھر کاٹسا قانون کے تحت صدر ڈونلڈ ٹرمپ بار ہ میں سے سات پابندیاں تو ضرور ترکی پر عاید کرسکتے ہیں۔ان کے تحت ترک شہریوں پر امریکی ویزے کی پابندی ہوگی اور ترکی کو امریکا میں قائم درآمدات، برآمدات بنک تک رسائی حاصل نہیں رہے گی۔یوں ترکی امریکا کے مالیاتی نظام سے کٹ جائے گا اور وہ اس کے ساتھ کوئی مالی لین دین بھی نہیں کرسکے گا۔

تاہم ماہرین کے مطابق صدر ٹرمپ ابتدا میں درمیانی راستہ اختیار کرسکتے ہیں اور وہ ترک حکومت کے بجائے افراد اور بعض اداروں کو پابندیوں کا ہدف بنا سکتے ہیں۔ ترکی کے ایک سابق سفارت کار اور برسلز میں کارنیگی یورپ کے وزٹنگ اسکالر سنعان اُلغن کے بہ قول امریکا کے ترکی کے ساتھ فوجی صنعتی تعلقات کو مکمل طور پر بلاک کرنے کی باتیں کی جارہی ہیں۔

ترکی نے بھی ماضی میں امریکا پر جوابی پابندیاں عاید کردی تھیں۔اب نئی پابندیوں سے امریکا کی طیارہ ساز کمپنی لاک ہیڈ مارٹن کا ترکی کی صنعتی کمپنیوں کے ساتھ کاروبار متاثر ہوسکتا ہے اور مستقبل میں ترک فضائیہ کے فلیٹ میں ایف 16 لڑاکا طیاروں کو اپ گریڈ کرنے میں رکاوٹیں حائل ہوسکتی ہیں۔اگر امریکا اپنی عمومی غوغا آرائی کے بجائے ترکی کے ساتھ کشیدگی کی راہ اختیار کرتا ہے تو اس کے بعد بھاری پابندیوں بھی عاید کی جاسکتی ہیں۔