.

مکہ مکرمہ میں اسلامی سربراہ اجلاس میں کس کس ملک کے قائدین شریک نہیں ہورہے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امیرِ قطر ، ترک صدر اور لبنانی وزیر خارجہ مکہ مکرمہ میں جمعہ کو ہونے والی اسلامی سربراہ کانفرنس میں شرکت نہیں کررہے ہیں۔

ترکی کی سرکاری خبررساں ایجنسی اناطولو کے مطابق امیر قطر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی نے مکہ مکرمہ میں جمعرات کو عرب لیگ اور خلیج تعاون کونسل کے ہنگامی سربراہ اجلاس میں بھی شرکت نہیں کی ہے۔

ترک صدر رجب طیب ایردوآن کے بارے میں بھی باخبر ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ وہ چودھویں اسلامی سربراہ اجلاس میں شریک نہیں ہوں گے حالانکہ وہ 2016ء میں استنبول میں منعقدہ تیرھویں اسلامی سربراہ کانفرنس کے میزبان تھے۔لبنانی وزیر خارجہ اور شیعہ ملیشیا حزب اللہ کی اتحادی فری پیٹریاٹک موومنٹ کے صدر جبران باسیل نے بھی مکہ میں منعقدہ دو عر ب اور خلیج کانفرنسوں میں شرکت نہیں کی ہے۔

قطری وزارت خارجہ کی ترجمان للواہ الخاطر نے ایک ٹویٹ میں اطلاع دی تھی کہ وزیراعظم شیخ عبداللہ بن ناصر آل ثانی ان تینوں کانفرنسوں میں شریک ہوں گے ۔انھوں نے لکھا تھا کہ علاقائی سطح پر بڑھتی ہوئی کشیدگی کی صورت حال میں اعلیٰ سطح پر کانفرنسوں میں شرکت ایک قومی اور انسانی ذمے داری ہے تاکہ اجتماعی سلامتی کا مقصد حاصل کیا جاسکے۔

سعودی عرب کے شاہ سلمان بن عبدالعزیز ایران سے بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں عالم اسلام کے نمایندہ لیڈروں کی ان کانفرنسوں کی میزبانی کررہےہیں جمعہ کو اسلامی سربراہ اجلاس ( مکہ سمٹ) سے ایک روز پہلے جمعرات کو عرب لیگ اور خلیج تعاون کو نسل( جی سی سی) کے دو الگ الگ ہنگامی سربراہ اجلاس منعقد ہوئے ہیں۔ان میں بیرونی خطرات سے نمٹنے کے لیے عرب اتحاد کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔شاہ سلمان نے امیرِ قطر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی کو گذشتہ ہفتے ان تینوں کانفرنسوں میں شرکت کے دعوت نامے بھیجے تھے اور قطری حکام نے ان کے موصول ہونے کی تصدیق بھی کی تھی۔