.

روسی صدر نے ایران کو "S-400" میزائل سسٹم فروخت کرنے سے انکار کر دیا: رپورٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روسی صدر ولادی میر پوتین نے ایران کی جانب سے جدید ترین "S-400" میزائل دفاعی سسٹم خریدنے کی درخواست مسترد کر دی ہے۔ بلومبرگ نیوز ایجنسی نے یہ بات جمعرات کے روز دو روسی ذمے داران کے حوالے سے بتائی۔ دونوں ذمے داران نے اپنی شناخت ظاہر نہیں کی۔

ایجنسی کے مطابق روسی ذمے داران کا کہنا ہے کہ ماسکو کی طرف سے انکار کی وجہ اس کی یہ تشویش ہے کہ میزائل نظام کی فروخت کا عمل مشرق وسطی میں مزید کشیدگی بھڑکا دے گا۔

اس سے قبل ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے رواں ماہ 7 مئی کو ماسکو کا دورہ کیا تھا۔ تاہم "S-400" نظام کی خریداری ان کے اعلانیہ ایجنڈے میں شامل نہیں تھی۔

بعض رپورٹوں کے مطابق ماسکو مشرق وسطی بالخصوص شام میں ایران کے بڑھتے ہوئے نفوذ پر بتدریج روک لگانے کے لیے کوشاں ہے۔ شام میں روس اور ایران دونوں ہی اپنے نفوذ کو مضبوط بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ایران کے پاس اس وقت "S-300" فضائی دفاعی نظام کا پرانا ماڈل ہے جو اس نے روس سے طویل عرصے کی تاخیر کے بعد گذشتہ برس حاصل کیا تھا۔

اس وقت ایران کی جانب سے خطے کے ممالک کے خلاف دشمنانہ تصرفات میں اضافہ ہو گیا ہے جب کہ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی بھی بڑھتی جا رہی ہے۔ اس دوران امارات کے ساحل کے مقابل تجارتی بحری جہازوں کو نشانہ بنایا گیا اور سعودی عرب میں اہداف پر حوثی ڈرون طیاروں کے ذریعے حملوں کی کوششیں کی گئیں۔

امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے جمعرات کے روز صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ امارات میں فجیرہ کے ساحل کے نزدیک خلیج عربی میں کچھ روز پہلے بحری آئل ٹینکروں کو نشانہ بنائے جانے کی ذمے داری ایران پر عائد ہوتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران نے تیل کی قیمتیں بڑھانے کے لیے فجیرہ کے نزدیک جہازوں پر حملے کیے۔

کچھ عرصہ پہلے واشنگٹن اور تہران کے درمیان کشیدگی اور تناؤ میں اضافہ ہو گیا جب امریکا نے ایران کی جانب سے خطرات کے سبب طیارہ بردار بحری جہاز اور "B-52" بم بار طیاروں کو خلیج بھیج دیا۔ اسی طرح واشنگٹن نے مشرق وسطی میں 1500 فوجیوں کو بھیجنے کے منصوبے کا بھی اعلان کیا۔