.

سوڈان میں سول حکومت کے قیام کے لیے فریقین فوری مذاکرات کریں:یو این سیکریٹری جنرل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوٹیریس نے سوڈان کے فوجی حکمرانوں اور احتجاجی گروپوں پر زور دیا ہے کہ وہ سول حکومت کے قیام کے لیے مذاکرات کی میز پر لوٹ جائیں۔

انتونیو گوٹیریس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ فریقین کو سویلین کے زیر قیادت عبوری حکومت کو جلد سے جلد اقتدار کی منتقلی کے لیے مذاکرات کو پایہ تکمیل کو پہنچانا چاہیے۔ انھوں نے سوڈان میں سوڈانی عوام کی جمہوری امنگوں کے مطابق ایک عبوری حکومت کے قیا م پر زور دیا ہے۔

سوڈان کے احتجاجی گروپوں اور حکمراں عبوری فوجی کونسل کے درمیان مجوزہ عبوری انتظامیہ کے معاملے پر مذاکرات تعطل کا شکار ہوچکے ہیں۔ان کے درمیان عبوری حکومت کے سربراہ کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے کہ آیا وہ کوئی فوجی جرنیل ہونا چاہیے یا کوئی سیاسی شخصیت ہونی چاہیے۔

طرفین کے درمیان مذاکرات میں تعطل کے بعد ان خدشات کو تقویت ملی ہے کہ سوڈانی فوج اقتدار پر اپنی گرفت کو مضبوط بنانا چاہتی ہے اور اس طرح ملک میں جمہوری حکومت کے قیام کے لیے سیاسی گروپوں اور شہری تنظیموں کی جدوجہد بھی رائیگاں چلی جائے گی۔جمعہ کو ہزاروں افراد نے دارالحکومت خرطوم میں فوجی حکمرانوں کے حق میں ریلی نکالی تھی جبکہ ان کے مخالف بھی مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔

سوڈان کی فوجی کونسل 11 اپریل سے ملک کا نظم ونسق چلا رہی ہے۔ سوڈانی فوج نے ملک میں دسمبر سے جاری احتجاجی مظاہروں کے بعد مطلق العنان صدر عمر حسن البشیر کو معزول کردیا تھا اور تمام کاروبار مملکت کو اپنے ہاتھ میں لے لیا تھا۔

سیکریٹر ی جنرل گوٹیریس نے طرفین سے ہر ممکن ضبط وتحمل کا مظاہرہ کرنے پر زور دیا ہے اور اظہار رائے اور اجتماع کے حق سمیت تمام انسانی حقوق کی پاسداری کا مطالبہ کیا ہے۔ان کے اس بیان سے قبل سوڈانی حکام نے جمعرات کو خرطوم میں قطر کے ملکیتی الجزیرہ ٹیلی ویژن چینل کے دفتر کو بند کردیا تھا اور اس کے صحافیوں پر ملک میں رپورٹنگ پر عاید کردی تھی۔

سوڈان کے فوجی جرنیل ایک سول حکومت کے حق میں اقتدار سے دستبردار ی کی مزاحمت کررہے ہیں ۔انھیں بیشتر عرب ، افریقی اور مغربی حکومتوں کی حمایت حاصل ہے۔حکمراں فوجی کونسل کے سربراہ جنرل عبدالفتاح البرہان نے اسی ہفتے سعودی عرب کا دورہ کیا ہے۔اس سے پہلے انھوں نے مصر اور متحدہ عرب امارات کا دورہ کیا تھا اور ان دونوں ملکوں نے ان کی قیادت میں فوجی کونسل کی حمایت کا اظہار کیا تھا۔