.

یہودی بستیاں مسئلہ فلسطین کے دو ریاستی حل کے لئے خطرہ ہیں: یورپی یونین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یورپی یونین وزارت خارجہ کی ترجمان فیڈریکا موگرینی نے اسرائیل کی طرف سے یہودی آبادکاروں کے لئے 800 رہائشی یونٹس کی تعمیر کے لئے ٹینڈر طلبی کی اطلاعات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ مشرقی القدس میں یہودی بستیوں کی تعمیر اور توسیع مسئلہ فلسطین کے دو ریاستی حل کے لئے خطرہ ہیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ یورپی یونین سختی سے اسرائیل میں یہودی آبادکاری کی پالیسیوں پر اعتراض کرتی ہے۔

یورپی یونین کے بیان میں کہا گیا ہے بین الاقوامی قانون میں اسرائیلی یہودی آبادکاری غیر قانونی اور امن کی راہ میں رکاوٹ ہے۔ یورپی یونین فریقین اور اپنے عالمی اور علاقائی پارٹنرز سے دور ریاستی حل کے لئے بامعنی مذاکرات کے سلسلے کو دوبارہ شروع کرنے کی حمایت کرے گی۔

فلسطینی وزارت خارجہ کی مذمت

ادھر فلسطینی وزارت خارجہ نے بھی اسرائیلی فیصلے کی ’’شدید الفاظ‘‘ میں مذمت کی ہے۔.

وزارت نے اپنے بیان میں کہا کہ یہودی آبادکاروں کے لئے ایسی تعمیرات کے ذریعے اسرائیل دراصل مشرقی بیت المقدس اور گرد ونواح کے علاقے کو فلسطینیوں سے پاک کر کے یہودی رنگ میں رنگنا چاہتا ہے تاکہ وہاں تعمیر کئے جانے والے رہائشی یونٹس میں علاقے کے اصل باسیوں کی جگہ یہودیوں کو آباد کیا جا سکے۔

فلسطینی وزارت خارجہ کے مطابق یہودی آبادکاری بینادی طور پر باطل اور غیر قانونی اقدام ہے۔ یہ اقدام صرف بین الاقوامی قانون، جنیوا معاہدوں، عالمی اداروں کی قراردادوں کی ہی خلاف ورزی نہیں بلکہ بین الاقوامی برادری کی جانب سے مقدس جانے والے اصولوں اور اقدار کا بھی مسلسل امتحان ہے۔

نیز یہودی آباد کار منصوبے فلسطینی عوام کے لئے بین الاقوامی برادری کی قانونی اور اخلاقی ذمہ داری اور ان کے حقوق کی خاطر امریکا اور اسرائیل کے سامنے ڈٹ جانے کی صلاحیت کا بھی مسلسل امتحان ہے۔