.

امریکا سے مذاکرات غیر عقلی اور ناممکن ہیں: کمانڈر سپاہِ پاسداران انقلاب ایران

دنیا میں کوئی بھی ملک اپنی دفاعی صلاحیتوں پر مذاکرات کے لیے تیار نہیں ہو گا، ایران کو اس میں کوئی استثنا حاصل نہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کی سپاہِ پاسدارا ن انقلاب کے کمانڈر بریگیڈئیر جنرل احمد وحیدی نے کہا ہے کہ ان کے ملک کے میزائل پروگرام اور دفاعی صلاحیتوں پر کوئی مذاکرات نہیں کیے جائیں گے۔

انھوں نے پاسداران انقلاب کی خبررساں ایجنسی تسنیم سے سوموار کو ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ ’’دفاعی صلاحیتوں پر مذاکرات کا مطلب مادر وطن کو دشمنوں کا آسان ہدف بنانا ہے۔کوئی بھی عاقل شخص اس کو قبول نہیں کرے گا ۔دنیا میں کوئی بھی ملک اپنی دفاعی صلاحیتوں پر مذاکرات کے لیے تیار نہیں ہو گا اور ایران کو اس میں کوئی استثنا حاصل نہیں ہے‘‘۔

انھوں نے یہ بات زور دے کر کہی کہ ’’ امریکا اور بالخصوص موجودہ حکومت سے مذاکرات تو بالکل غیر عقلی اور ناممکن ہیں‘‘۔

ایرانی فوج کے نائب سربراہ برائے رابطہ رئیر ایڈمرل سیاری نے بھی اتوار کو ایک بیان میں کہا تھا کہ ایران کے میزائل پروگرام پر کبھی کوئی بات چیت نہیں کی جائے گی۔انھوں نے’تسنیم ‘سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’’ ایران کی دفاعی اور میزائل قوت پر ہرگز بھی کوئی بات چیت نہیں کی جائے گی‘‘۔

ایران اور امریکا کے لیڈروں نے حالیہ ہفتوں کے دوران میں ایک دوسرے کے خلاف تندوتیز بیانات جاری کیے ہیں لیکن اب مفاہمانہ طرز عمل اختیار کر لیا ہے اور قدرے مصالحتی بیانات جاری کرنا شروع کردیے ہیں مگر ایران کے سیاسی قائدین تو مصالحتی رویہ اختیار کررہے ہیں جبکہ فوجی کمانڈر حسب سابق دھمکی آمیز بیانات دے رہے ہیں یا امریکا سے مذاکرات نہ کرنے کی باتیں کررہے ہیں۔

ایرانی صدر حسن روحانی نے ہفتے کے روز امریکا کو پیش کش کی تھی کہ اگر وہ بین الاقوامی اصولوں کی پاسداری کرے اور احترام کا مظاہرہ کرے تو ایران اس کے ساتھ مذاکرات پر آمادہ ہوسکتا ہے لیکن اس پر مذاکرات کے لیے دباؤ نہیں ڈالا جاسکتا ہے۔

ایرانی صدر نے کہا تھا:’’ اگر دوسرا فریق مذاکرات کی میز پر احترام سے بیٹھے اور بین الاقوامی قواعد وضوابط کی پاسداری کرے تو ہم دلیل ومنطق اور مذاکرات کے لیے تیار ہیں لیکن اگر وہ بات چیت کے لیے کوئی حکم جاری کرتا ہے تو پھر اس سے کوئی مذاکرات نہیں ہوسکتے‘‘۔

امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے اتوار کو کہا تھا کہ ان کا ملک ایران کے ساتھ کسی پیشگی شرط کے بغیر بات چیت کے لیے تیار ہے لیکن ساتھ ہی انھوں نے یہ بات بھی زور دے کر کہی ہے کہ امریکا ایران کے تخریبی کردار پر قابو پانے کے لیے اپنا کام جاری رکھے گا۔

مائیک پومپیو نے سوئٹزرلینڈ میں سوئس وزیر خارجہ آئگنازیو کیسس کے ساتھ مشترکہ نیوز کانفرنس میں کہا کہ ’’ہم کسی قسم کی پیشگی شرائط کے بغیر ایران کے جوہری پروگرام پر مکالمے کے لیے تیار ہیں اورہم ان کے ساتھ مل بیٹھنے کو تیار ہیں‘‘۔تاہم انھوں نے واضح کیا کہ امریکا اس اسلامی جمہوریہ اور اس انقلابی قوت کی تخریبی سرگرمیوں کو روک لگانے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا کیونکہ امریکا ایران سے یہ چاہتا ہے کہ وہ ایک معمول کی قوم کے طور پر کردار ادا کرے۔