.

ایران : صحافی کو ’’ غلط اطلاعات ‘‘ کی تشہیر اور سپریم لیڈر کی توہین پر دو سال جیل کی سزا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران میں عدلیہ نے ایک صحافی کو ’’ غلط اطلاعات‘‘ کی تشہیر اور سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی توہین کے الزم میں قصور و ار قرار دے کر دو سال جیل کی سزا سنائی ہے۔

سزایافتہ صحافی مسعود کاظمی کے وکیل علی مجتبیٰ زادہ نے سرکاری خبررساں ایجنسی ایرنا کو بتایا ہے کہ عدالت نے ان کے موکل پر دوسال کے لیے ’’ میڈیا کی سرگرمیوں‘‘پابندی عاید کر دی ہے ۔تاہم کاظمی کے خلاف عاید کردہ الزامات کی وضاحت نہیں کی گئی ہے۔

ایرا ن کے ایک سرکاری اخبار نے23 مئی کو یہ اطلاع دی تھی کہ مسعود کاظمی کو ایک روز قبل گرفتار کر لیا گیا ہے۔ وہ اصلاح پسندوں کے روزنامہ شہ رگ میں رپورٹر کے طور پر کام کررہے تھے۔وہ ماہانہ میگزین صدائے پارسی کے مدیر اعلیٰ بھی تھے۔

وکیل علی مجتبیٰ زادہ کا کہنا تھا کہ ٹرائیل سے قبل عدالت نے قومی سلامتی کے منافی سازش کے الزام میں مقدمے پر دس ارب ریال کی ضمانت طلب کی تھی۔

مجتبیٰ زادہ کا کہنا تھا کہ ’’خوش قسمتی سے ٹرائیل کے دوران میں عدالت نے اس الزام کو ختم کردیا تھا اور موجودہ الزامات کے تحت ہمیں یہ امید تھی کہ ضمانت کی رقم کو کم کردیا جائے گا اور ان کے موکل کو رہا کردیا جائے گا۔

ایران میں ایک اور صحافی پویان خوشحال کو اکتوبر2018ء میں گرفتار کیا گیا تھا۔ان میں حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی توہین کا الزام عاید کیا گیا تھا۔گذشتہ سال اگست میں ایک اور صحافی میر محمد میر اسماعیلی کو حضرت امام رضا رحمۃ اللہ علیہ کی توہین کے جرم میں دس سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔