.

سوڈان: فوج کا دھرنے کے مقام پر آپریشن، فائرنگ سے متعدد ہلاکتیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سوڈانی دارلحکومت خرطوم سے ’’العربیہ‘‘ کے نامہ نگار نے اپنے مراسلے میں بتایا سوڈانی فوج نے دھرنا کے مقام کی طرف جانے والے تمام راستوں میں رکاوٹیں کھڑی کر دی ہیں۔

مراسلے میں یہ بھی بتایا کہ پولیس ایکشن کے بعد خرطوم میں بری کالونی کی جانب راہ فرار اختیار کرنے والے مظاہرین کی پکڑ دھکڑ جاری ہے۔ فوجی کارروائی کے خلاف مزاحمت میں صوبوں میں مظاہرین سڑکوں پر نکل آئے۔

سوڈانی رضاکاروں نے اس سے قبل بتایا کہ جنرل ہیڈکوارٹرز کے باہر دھرنا کیمپ کے خلاف فوجی ایکشن میں کم سے کم 14 افراد ہلاک اور کئی درجن زخمی ہو گئے جبکہ ڈاکٹروں کی سوڈانی انجمن نے مرنے والوں کی تعداد 9 بتائی ہے۔

خرطوم میں موجود العربیہ ٹی وی کے نمائندے کے مطابق سوڈانی فوج کی جانب سے دھرنے کے مقام میں داخلے کے بعد بھاری فائرنگ کی آواز سنی گئی۔ دھرنے کے شرکاء کا کہنا ہے سوڈانی فوج طاقت کے استعمال سے ان کو یہاں سے منتشر کرنا چاہتی ہے۔

سوڈانی دارالحکومت میں فوجی ہیڈکوارٹر کے باہر دھرنا دئیے بیٹھے مظاہرین کے دیرینہ مطالبات میں سرفہرست اقتدار کی سول اداروں کو واپسی اور عبوری عسکری کونسل کا خاتمہ شامل ہے۔

مظاہرین کے مرکزی گروپ نے سوڈانی عوام کو جاری اپیل میں کہا ہے کہ "فوجی ہیڈکوارٹرز کے سامنے بیٹھے دھرنے کے شرکاء کو طاقت کے زور سے منتشر کرنے کی کوشش کے دوران مظاہرین کو بے دریغ قتل کیا جا رہا ہے۔"