.

طرابلس حملے کے خود کش بم بار داعشی کی وڈیو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان کے شمالی شہر طرابلس میں عید الفطر سے قبل پیر کے روز فائرنگ کے واقعے میں فوج اور داخلہ سیکورٹی فورس کے 4 ارکان اور افسران (دو کا تعلق فوج سے اور دو کا داخلہ سیکورٹی فورس سے تھا) ہلاک ہو گئے۔ بعد ازاں حملہ آور نے خود کو دھماکے سے اڑا دیا۔

پیر کی شب شدت پسندوں کے ایک گروہ نے طرابلس میں سیکورٹی فورسز اور لبنانی فوج کے ایک سے زیادہ مراکز اور مرکزی بینک کی ایک شاخ پر بموں سے حملہ کیا۔ اس دوران شدت پسندوں کا گروپ ایک عمارت میں مورچہ بند ہو گئے۔ اس پر انٹیلی جنس ڈائرکٹریٹ کی فوسز نے عمارت پر چھاپا مارا جہاں مطلوب دہشت گرد اور داعش کے سیل کا سربراہ عبدالرحمن مبسوط چھپا ہوا تھا۔

سیکورٹی اہل کاروں کی مبسوط کے ساتھ مسلح جھڑپ ہوئی جس کے بعد اس نے اپنی کمر پر باندھی ہوئی بارودی بیلٹ کے ذریعے خود کو دھماکے سے اڑا دیا۔ تاہم کوئی سیکورٹی اہل کار زخمی نہ ہوا۔

لبنانی فوج نے فوری طور پر علاقے کو اپنے گھیرے میں لے لیا۔ مبسوط کی موت کے بعد سوشل میڈیا پر اس کی ایک وڈیو پھیل گئی۔ وڈیو میں وہ بآواز بلند بات کرتے ہوئے ایک سیکورٹی اہل کار کو جواب دے رہا ہے۔ اسی طرح کارروائی پر عمل درامد سے قبل کی ایک وڈیو سامنے آئی ہے۔ وڈیو میں مبسوط نے بتایا کہ وہ یہ سب اللہ کی رضا کے واسطے کر رہا ہے۔

لبنانی میڈیا کے مطابق عبدالرحمن مبسوط 2015 میں لبنان سے کوچ کر کے ترکی چلا گیا۔ اس کا مقصد شام میں داعش تنطیم کے ساتھ جڑ جانا تھا۔

مبسوط ترکی میں ایک ماہ سے زیادہ عرصے رہا کیوں کہ وہ داعش کے زیر کنٹرول علاقے کی جانب سرحد عبور نہ کرسکا تھا۔ بعد ازاں وہ واپس آیا اور پھر شمالی شام کے صوبے ادلب میں داخل ہو کر داعش کے ساتھ رابطے میں رہا اور پھر اس کی صفوں میں ہو گیا۔

کئی ماہ بعد وہ لبنان واپس آ گیا جہاں 2016 میں حراست میں لے لیا گیا اور پھر فوجی عدالت میں پیش کیا گیا۔

العربیہ کے نمائندے کے مطابق مبسوط کو رومیہ مرکزی جیل میں رکھا گیا تھا۔ پھر ڈیڑھ سال بعد وہ رہا ہو گیا۔

دوسری جانب لبنان کی وزیر داخلہ نے منگل کے روز طرابلس کا دورہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ لبنانی فوج اور سیکورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپ میں ملوث عناصر محض ایک مقامی "سیل" ہے جس کے عناصر کا عالمی اور علاقائی سطح پر کسی تنظیمی یا رابطہ کار نیٹ ورک سے کوئی تعلق نہیں ہے۔