.

تہران نے اشتعال انگیزی دُہرائی تو مختصر مدت میں تباہ کر ڈالیں گے : امریکی رکن کانگرس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

گزشتہ ہفتوں کے دوران امریکا اور ایران کے درمیان دھمکیوں کے تبادلے کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کی سطح کافی بلند ہو چکی ہے۔ اس حوالے سے ریپبلکن رکن کانگرس ایڈم کینزنگر کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ چھڑنے کا موقع ہر دم موجود رہتا ہے۔

امریکی جریدے نیوز ویک نے بدھ کے روز ایڈم کے حوالے سے بتایا کہ "امریکی عسکری قوت کے غلبے کی مہربانی سے اس قبیل کے کسی بھی تنازع کا فیصلہ مختصر عرصے میں ہو جائے گا۔ اگر تہران نے اشتعال انگیزی کی کوششوں کو دہرایا تو اسے بہت تھوڑے وقت میں تباہ کر دیا جائے گا"۔

امریکی چینلFox News کو دیے گئے بیان میں ایڈم نے کہا کہ "ایران ہمیں (امریکا) کو اشتعال دلانے کی کوشش کر رہا ہے۔ لہذا اس کی تکرار کی صورت میں رد عمل مناسب جواب ہو گا۔ اگر عسکری مقابلہ ہوا تو یہ یک طرفہ ہو گا"۔

یاد رہے کہ ایران ایک سے زیادہ مرتبہ یہ باور کرا چکا ہے کہ اگر اسے امریکی حملے کا نشانہ بنایا گیا تو وہ جواب دینے میں ہر گز ہچکچاہٹ کا مظاہرہ نہیں کرے گا۔ تاہم ساتھ ہی وہ جنگ سے گریز کا بھی خواہاں ہے۔ ایرانی صدر حسن روحانی کہہ چکے ہیں کہ "ایران دیگر ممالک یا عالمی طاقتوں کے ساتھ کسی لڑائی میں داخل ہونے کا میلان نہیں رکھتا"۔

اس سے قبل روحانی یہ باور کرا چکے ہیں کہ صورت حال بات چیت کے لیے مناسب نہیں مگر ایران کا آپشن مزاحمت ہے۔ ایرانی صدر کے مطابق وہ بات چیت اور سفارت کاری کی تائید کرتے ہیں مگر موجودہ حالات کی روشنی میں وہ اسے قبول نہیں کریں گے۔

تہران کی جانب سے یورینیم کی افزودگی کا پروگرام دوبارہ شروع کیے جانے کی دھمکی کے بعد امریکا اور ایران کے درمیان زبانی جنگ کی شدت میں اضافہ ہو گیا ہے۔ یہ پروگرام ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان جوہری معاہدہ طے پانے کے بعد روک دیا گیا تھا۔