.

سوڈان : احتجاجی تحریک کا اتوار سے ملک گیر ’سول نافرمانی‘ کی مہم شروع کرنے کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سوڈان میں احتجاجی مظاہروں کو منظم کرنے والے مرکزی گروپ نے ملک گیر سول نافرمانی کی مہم شروع کرنے کا اعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ جب تک حکمران عبوری فوجی کونسل اقتدار ایک شہری حکومت کے حوالے نہیں کردیتی،اس وقت تک سول نافرمانی کی یہ مہم جاری رہے گی۔

سوڈانی پیشہ وران تنظیم نے ہفتے کے روز ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’ سول نافرمانی کی تحریک اتوار سے شروع ہوگی اور یہ اس وقت تک جاری رہے گی جب تک ایک شہری حکومت خود سرکاری ٹیلی ویژن سے یہ اعلان نشر نہیں کردیتی کہ اس نے اقتدار اپنے ہاتھ میں لے لیا ہے‘‘۔واضح رہے کہ سوڈانی پروفیشنلز ایسوسی ایشن نے سابق مطلق العنان صدر عمر حسن البشیر کے خلاف گذشتہ سال دسمبر میں احتجاجی تحریک شروع کی تھی اور اس کے نتیجے میں انھیں اپریل میں اقتدار سے ہاتھ دھونا پڑے تھے۔

اس تنظیم نے ملک گیر سول نافرمانی شروع کرنے کا اعلان ایسے وقت میں کیا ہے جب ایتھوپیا کے وزیر اعظم ابی احمد نے حکمراں فوجی جرنیلوں اور احتجاجی تحریک کے لیڈروں سے الگ الگ ملاقات کی ہے تاکہ سوڈان میں جاری بحران کے حل کے لیے مصالحتی عمل کو آگے بڑھایا جاسکے۔

دریں اثناء سوڈان میں سکیورٹی فورسز نے دو معروف باغی لیڈروں اور حزبِ اختلاف کے ایک رہ نما کو ایتھوپیا کے وزیراعظم ابی احمد سے ملاقات کے بعد گرفتار کر لیاہے۔ انھوں نے سوڈان کی احتجاجی تحریک کے جن وفود سے ملاقات کی ، ان میں حزبِ اختلاف سے تعلق رکھنے والے سیاست دان محمد عصمت اور باغی گروپ سوڈان پیپلز لبریشن تحریک -شمال (ایس پی ایل ایم –این) کے لیڈر اسماعیل جلاب بھی شامل تھے۔وزیراعظم ابی احمد سے اس ملاقات کے فوری بعد سوڈان کی سکیورٹی فورسز نے محمد عصمت کو گرفتار کر لیا تھا۔اسماعیل جلاب کو ہفتے کو علی الصباح ان کی قیام گاہ سے گرفتار کیا تھا۔سکیورٹی فورسز نے ان کی گرفتاری کی کوئی وجہ بھی بیان نہیں کی ہے۔