.

سوڈان :ایتھوپیا کے وزیراعظم سے ملاقات پر احتجاجی تحریک کے تین قائدین گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سوڈان میں سکیورٹی فورسز نے دو معروف باغی لیڈروں اور حزبِ اختلاف کے ایک رہ نما کو ایتھوپیا کے وزیراعظم ابی احمد سے ملاقات کے بعد گرفتار کر لیاہے۔

ایتھوپیا ئی وزیراعظم نے جمعہ کو سوڈان میں جاری بحران کے سیاسی حل کے لیے مصالحتی کوششوں کے ضمن میں خرطوم کا دورہ کیا تھا۔انھوں نے سوڈان کی حکمراں عبوری فوجی کونسل کی قیادت اور حزبِ اختلاف کے لیڈروں سے ملاقات کی تھی۔وہ حکمراں فوجی جرنیلوں اور احتجاجی تحریک کے لیڈروں کے درمیان تعطل کا شکار مذاکرات کی بحالی کے لیے کوشاں ہیں۔

انھوں نے سوڈان کی احتجاجی تحریک کے جن وفود سے ملاقات کی ، ان میں حزبِ اختلاف سے تعلق رکھنے والے سیاست دان محمد عصمت اور باغی گروپ سوڈان پیپلز لبریشن تحریک -شمال (ایس پی ایل ایم –این) سے تعلق رکھنے والے اسماعیل جلاب بھی شامل تھے۔

وزیراعظم ابی احمد سے اس ملاقات کے فوری بعد سوڈان کی سکیورٹی فورسز نے محمد عصمت کو گرفتار کر لیا تھا۔اسماعیل جلاب کو ہفتے کو علی الصباح ان کی قیام گاہ سے گرفتار کیا تھا۔سکیورٹی فورسز نے ان کی گرفتاری کی کوئی وجہ بھی بیان نہیں کی ہے۔

ان کے معاون رشید انور نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ’’ مسلح افراد کا ایک گروپ گاڑیوں پر سوار ہوکر مقامی وقت کے مطابق صبح تین بجے آیا تھا اور اسماعیل جلاب کو اٹھا کر لے گیا تھا‘‘۔سکیورٹی فورسز نے پیپلز لبریشن تحریک کے ترجمان مبارک ارضول کو بھی گرفتار کر لیا ہے۔ان کا کہنا تھا ’’ہمیں بالکل بھی کوئی علم نہیں کہ انھیں کہاں رکھا جارہا ہے‘‘۔

محمد عصمت اور اسماعیل جلاب اتحاد برائے آزادی اور تبدیلی کے سرکردہ ارکان ہیں ۔اس اتحاد میں حزب اختلاف کی جماعتیں اور باغی گروپ شامل ہیں۔اس کے زیر انتظام گذشتہ سال دسمبر سے سوڈان میں عوامی احتجاجی مظاہرے جاری ہیں۔اسی تحریک کے نتیجے میں اپریل میں سوڈانی فوج نے سابق مطلق العنان صدر عمر حسن البشیر کو معزول کردیا تھا۔

اسماعیل جلاب کی گرفتاری سے چند روز قبل ایس پی ایل ایم –این کے نائب سربراہ یاسر ارمان کو بھی خرطوم میں ان کے مکان سے گرفتار کر لیا تھا۔وہ گذشتہ ماہ ہی خود ساختہ جلا وطنی کے بعد خرطوم لوٹے تھے۔

ایس پی ایل ایم –این سوڈان کی دو ریاستوں بلیو نیل اور جنوبی کردوفا ن میں غیر عرب نسلی اقلیتوں کی 2011ء سے مرکزی حکومت کے خلاف مزاحمتی سرگرمیوں کی قیادت کررہی ہے۔سوڈان کی حکمراں فوجی کونسل نے اس تحریک کو پُرامن طریقے سے ختم کرنے کا عزم کررکھا ہے۔