.

بندشیں سعودی عرب کو ہتھیاروں سے لیس ہونے سے نہیں روک سکیں : سی این این

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی نیوز چینل "سی این این" نے اپنی ایک رپورٹ میں "مشرق وسطی میں ہتھیاروں کی دوڑ" پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا ہے کہ قیود اور روک سعودی عرب کو دفاعی ہتھیاروں سے لیس ہونے سے نہیں روک سکی۔

رپورٹ میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بلند و بانگ دعوؤں کی طرف بھی اشارہ کیا گیا ہے جو سعودی عرب کے ساتھ ہتھیاروں کی ڈیل کے حوالے سے تھے۔ اس ڈیل کے بارے کہا جا رہا تھا کہ اس کی مالیت 110 ارب ڈالر تک پہنچ گئی۔ تاہم رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ آخر کار "سعودی عرب کی جانب سے ہتھیاروں کی خرید درحقیقت نسبتا کم رہی"۔ گذشتہ برس کے اختتام پر جاری ہونے والے اعداد و شمار کے مطابق سعودی عرب کی تصدیق شدہ خریداری کی مالیت صرف 14 ارب ڈالر رہی۔

سی این این نے مزید بتایا کہ اس کمی کے نقصان کو پورا کرنے کے لیے امریکی انتظامیہ نے گذشتہ ماہ کانگرس کو بائی پاس کرتے ہوئے ہنگامی حالت کا سہارا لیا تا کہ سعودی عرب ، امارات اور دیگر ممالک کو 8 ارب ڈالر مالیت کا خریدا گیا اسلحہ جلد منتقل کیا جا سکے۔ یہ اقدام خطے میں ایران کے بڑھتے ہوئے خطرے سے نمٹنے کے لیے کیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق سعودی عرب صرف امریکا سے ہتھیار نہیں خرید رہا اور اس کی خریداری روایتی ہتھیاروں تک محدود نہیں ہے۔ جیوپولیٹیکل شورشوں کا مقابلہ کرنے کے لیے سعودی عرب واشنگٹن کے حریفوں کے ساتھ بھی ہتھیاروں کی خریداری کے سمجھوتے طے کر رہا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سی این این کے سامنے آنے والی خفیہ انٹیلی جنس معلومات جس پر کانگرس کا مطلع ہونا منع تھا ،،، اس کے مطابق سعودیوں نے حالیہ برسوں میں اپنے بیلسٹک میزائل پروگرام کو توسیع دینے کے واسطے چین کا سہارا لیا۔

چینل کے مطابق 1987 میں طے پانے والا سمجھوتا ریاض کو ایسی امریکی ٹکنالوجی کی خریداری سے روکتا ہے جو وسیع تباہی کے ہتھیاروں کی حامل ہو سکتی ہے۔ لہذا سعودی عرب نے بیجنگ کا رخ کیا۔ چین کے ساتھ مذکورہ خریداری کا حجم واضح نہیں تاہم یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ مملکت خطے میں سب سے بہتر اسلحہ خانہ حاصل کرنے کے واسطے کوشاں ہے۔

امریکی وزارت خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ سعودی عرب ابھی تک جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ پر روک لگانے کے معاہدے پر کاربند ہے۔

دوسری جانب ریاض ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی کے تعاون سے اپنے جوہری پروگرام کے حوالے سے کھلا موقف رکھتا ہے۔ ایجنسی نے گذشتہ برس جولائی میں ایک ٹیم سعودی عرب بھیجی تھی جس کا مقصد اس حوالے سے تعمیراتی منصوبوں کے مقامات کا معائنہ کرنا تھا۔ سعودی عرب بارہا یہ اعلان کر چکا ہے کہ یہ پروگرام پر امن ہے۔

سی این این کا مزید کہنا ہے کہ اگرچہ اس بات کا کوئی اشارہ نہیں ملتا کہ سعودی عرب جوہری ہتھیاروں کے حصول کے لیے کوشاں ہے تاہم وہ زیادہ وسیع سطح پر جوہری ٹکنالوجی حاصل کرنے کے لیے مارکیٹ میں موجود ہے۔ یاد رہے کہ ریاض کے مضافات میں ارجنٹائن کے تعاون سے ری ایکٹروں کا کام مکمل کر لیا گیا ہے۔

سعودی عرب نے متعدد امریکی کمپنیوں سے جوہری ٹکنالوجی حاصل کرنے کی کوشش کی جن کے بارے میں انکشاف نہیں کیا گیا۔ مذکورہ کمپنیوں کو امریکی وزارت توانائی کی جانب سے سات پرمٹ جاری کیے گئے تھے۔ ان اجازت ناموں کو "پرمٹس 810" کا نام دیا گیا اور ان کے سبب ڈیموکریٹس قانون سازوں کا غصہ بھڑک اٹھا۔ ڈیموکریٹس کو اس معاملے میں غیر معمولی رازداری پر اعتراض تھا۔ مذکورہ پرمٹس کے اجرا کی تاریخوں کا انکشاف منگل کے روز ہوا ہے۔ البتہ امریکی کمپنیوں کے نام اب بھی خفیہ رکھے گئے ہیں۔

سی این این کے مطابق سعودی ذمے داران کا کہنا ہے کہ جوہری ری ایکٹرز سمندری پانی کے Desalination کے عمل میں فائدہ مند ہوں گے۔

تاہم خریداری کے عمل کی رازداری نے ان اندیشوں کو جنم دیا ہے کہ منصوبے کا ایجنڈا اس سے زیادہ وسیع ہے۔