.

سعودی عرب میں اسمارٹ بموں کی تیاری ، امریکی کانگرس میں ٹرمپ کے حریف چراغ پا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

واشنگٹن میں سعودی عرب کو جدید اسلحے کی فروخت کے حوالے سے ایک نئے معرکے کا آغاز دیکھنے میں آ رہا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے گذشتہ ماہ ہنگامی حالت کا اعلان کرتے ہوئے سعودی عرب کو مزید ہتھیاروں کی فروخت میں جلدی کی تو اس نے ارکان کانگرس میں ٹرمپ کے حریفوں کو چراغ پا کر دیا۔ ان ارکان کی جانب سے مذکورہ فروخت کی مخالف کی گئی۔

یاد رہے کہ سعودی عرب کے لیے امریکی عسکری ساز و سامان کی مجموعی فروخت کا حجم درحقیقت اس سے بہت کم ہے جس کا ٹرمپ نے پہلے اعلان کیا تھا۔ ٹرمپ نے مجموعی حجم کی مالیت کا اعلان 110 ارب ڈالر کیا تھا مگر گذشتہ برس میں واقعتا یہ 14 ارب ڈالر سے زیادہ نہ تھا۔

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق امریکی کانگرس کے بعض ارکان اس بات کے مخالف ہیں کہ سعودی عرب ایسی ٹکنالوجی حاصل کرنے میں کامیاب ہو جس سے وہ درست طور پر امریکی گائیڈڈ بموں کا خصوصی ورژن تیار کر سکے۔

ٹرمپ نے امریکی دفاعی صنعت کی ایک بڑی کمپنی Raytheon کو ہنگامی پرمٹ جاری کیا۔ اس کے تحت مذکورہ کمپنی اعلی ٹکنالوجی کے بموں کے اجزاء کی سعودی عرب میں تیاری کے حوالے سے ریاض کے ساتھ تعاون کر سکے گی۔ واضح رہے کہ امریکا نے قومی سلامتی سے متعلق وجوہات کے سبب اب تک اس ٹکنالوجی کو خفیہ رکھا۔

یہ نیا معاہدہ ہتھیاروں سے متعلق ایک زیادہ بڑے پیکج کا حصہ ہے جو پہلے کانگرس کی جانب سے روک دیا گیا تھا۔ پیکج میں 1.2 لاکھ precision-guided بموں کی کھیپ شامل ہے جس کا یمن میں عرب اتحاد کو دینے کا وعدہ کیا گیا ہے۔ یہ کھیپ اُن لاکھوں بموں کے علاوہ ہے جو پہلے ہی سعودی عرب اور امارات میں موجود ہیں۔

اس اقدام میں سعودی عرب کےF-15 لڑاکا طیاروں، مارٹر توپوں، ٹینک شکن میزائلوں اور 0.5 ایم ایم نالی کی رائفلوں کی سپورٹ بھی شامل ہے۔

امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے ہتھیاروں کی فروخت کے حوالے سے کانگرس کے جائزے کو ایک طرف رکھتے ہوئے 24 مئی کو ایک خط میں کانگرس کی قیادت کو ہنگامی حالت کے اعلان سے آگاہ کیا۔

ہنگامی حالت کے اعلان نے دونوں جماعتوں کے قانون سازوں کے ردود عمل کو جنم دیا۔ انہوں نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ آیا ٹرمپ انتظامیہ ہتھیاروں کی فروخت کی مںظوری کے لیے کانگرس کو بائی پاس کر رہی ہے۔

امریکی سینیٹ کے ارکان کے ایک گروپ نے اعلان کیا ہے کہ وہ 22 علاحدہ اقدامات کے ذریعے ہتھیاروں کی فروخت کے سمجھوتوں کو مسترد کرنے کے حوالے سے اپنے موقف کا اظہار کرے گا۔

ادھر ایوان نمائندگان میں آئندہ ہفتے ایک اجلاس کے دوران ارکان امریکی وزارت خارجہ کے عہدے دار آر کلارک کوپر سے سوال جواب کریں گے۔ کوپر کا دفتر ہتھیاروں کی برآمد کے پرمٹ جاری کرنے کا ذمے دار ہے۔

دوسری جانب ڈیموکریٹک رکن پارلیمٹ ٹوم میلنووسکی کا کہنا ہے کہ ان کے خیال میں صدر ٹرمپ امریکی قومی مفادات اور سعودی عرب اور امارات کے مفادات میں فرق کرنے کی قدرت نہیں رکھتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ٹرمپ انتظامیہ نے ہمیں اس بات کا کوئی ثبوت پیش نہیں کیا کہ سعودی عرب اور امارات کو قابل توجہ صورت میں ایران کی جانب سے کسی نئے خظرے کا سامنا ہے جو ہنگامی حالت کے اعلان کا جواز بن سکے۔

یاد رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے مئی 2017 میں سعودی عرب کے دورے کے دوران Raytheon کمپنی نے سعودی ملٹری انڈسٹری کمپنی کے ساتھ کام کرنے کے حوالے سے ایک سمجھوتے پر دستخط کیے تھے۔ تاہم کمپنی کے ذمے داران کا کہنا ہے کہ وہ ابھی تک اس سمجھوتے کی تفصیلات کے حوالے سے سعودی حکومت کے ساتھ مذاکرات کر رہے ہیں۔

نیویارک ٹائمز کے مطابق اس سمجھوتے نے بعض امریکی قانون سازوں کے درمیان سکیورٹی اندیشے پیدا کر دیے ہیں۔ یہ افراد اس بات کی یقین دہانی حاصل کرنے کے واسطے کوشاں ہیں کہ امریکی ٹکنالوجی غلط ہاتھوں میں نہیں جائے گی۔

اخبار کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ارکان کانگرس کے مطابق سعودی عرب عسکری صنعت کی ٹکنالوجی اپنے ملک منتقل کرنا چاہتا ہے تا کہ روزگار کے مزید مواقع پیدا کیے جا سکیں۔ تاہم ارکان نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ "سعودی عرب آخر کار اس ٹکنالوجی کو کاپی کر کے اپنے خصوصی ہتھیاروں کی تیاری کے واسطے استعمال میں لا سکتا ہے ،،، اس لیے کہ مملکت کو آزادی ہو گی کہ وہ اسے استعمال کرے یا جسے چاہے فروخت کرے"۔