.

ہمارے طیارہ بردار جہاز نے ایران کو حملے سے رکنے پر مجبور کر دیا : امریکی فوج

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی طیارہ بردار جہاز "ابراہم لنکن" کو خلیج عربی میں امریکی فورسز یا تجارتی جہازوں پر ایرانی حملوں کے خطرات سے نمٹنے کے لیے امریکی وزارت دفاع پنٹاگان کی جوابی کارروائی کا محور شمار کیا جا رہا ہے۔ تقریبا 70 طیاروں کا حامل یہ بحری جہاز بحر عرب میں بین الاقوامی پانی میں کھڑا ہے۔

امریکی فوج کی مرکزی کمان کے کمانڈر فرینک میکنزی کا کہنا ہے کہ اگر امریکا حالیہ دنوں میں اپنے عسکری وجود کو مضبوط نہ بناتا تو اب تک حملہ ہو چکا ہوتا۔

میکنزی کے مطابق وہ سمجھتے ہیں کہ تہران بحری جہازوں یا عراق میں امریکی فورسز پر حملے کی تیاری کر رہا تھا تاہم خلیج میں طیارہ بردار جہاز کی موجودگی نے ایران کو ان منصوبوں میں ترمیم پر مجبور کر دیا۔

ابراہم لنکن طیارہ بردار جہاز سے دیے گئے ایک اخباری انٹرویو میں میکنزی نے کہا کہ "ہم سمجھتے ہیں کہ ایران اپنا حساب کتاب دوبارہ کر رہا ہے۔ انہیں چاہیے کہ ممکنہ اقدامات کے بارے میں سوچتے ہوئے طیارہ بردار جہاز کو ذہن میں رکھیں"۔

امریکی مرکزی کمان کے کمانڈر نے زور دے کر کہا کہ خلیج میں طیارہ بردار جہاز کی موجودگی نے خطے کے استحکام پر مثبت اثر ڈالا ہے۔