.

یورپ معمول کے اقتصادی تعلقات استوار کرے،ورنہ نتائج بھگتنا پڑیں گے: ایران

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران نے یورپ پر زور دیا ہے کہ وہ امریکا کی پابندیوں کے باوجود اس کے ساتھ معمول کے تعلقات استوار کرے، ورنہ نتائج کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہوجائے۔اس نے یورپ سے یہ بھی کہا ہے کہ اس کو ایران کی فوجی صلاحیتوں پر تنقید کا کوئی حق نہیں ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے اتوار کو ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’ یورپیوں کو جوہری سمجھوتے ( جے سی پی او اے) سے باہر امور کی بنا پر ایران پر تنقید کا کوئی حق حاصل نہیں ہے۔یورپیوں اور اس سمجھوتے پر دست خط کرنے والے دوسرے ممالک کو ایران کے ساتھ معمول کے تعلقات استوار کرنے چاہییں۔ہم ان کے اقدامات کے ردعمل میں اپنے وعدوں کی پاسداری کے پابند نہیں رہیں گے اور جوابی اقدامات کریں گے‘‘۔

ایران نے گذشتہ ماہ 2015 ء میں چھے بڑی طاقتوں سے طے شدہ جوہری سمجھوتے کے تحت اپنی بعض ذمے داریوں پر عمل درآمد روک دیا تھا اور خبردار کیا تھا کہ اگر یورپی ممالک اس کو امریکا کی پابندیوں سے تحفظ دینے میں ناکام رہتے ہیں تو وہ 60 روز میں مزید ذمے داریوں سے بھی دستبردار ہوجائے گا۔

ایران کے ساتھ جوہری سمجھوتے پر امریکا ، چین اور روس کے علاوہ تین یورپی ممالک فرانس ، برطانیہ اور جرمنی نے دست خط کیے تھے ۔امریکا تو مئی 2018ء میں اس سمجھوتے سے دستبردار ہوگیا تھا اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نومبر میں ایران کے خلاف دوبارہ سخت اقتصادی پابندیاں عاید کردی تھیں۔ان تینوں یورپی ممالک کو بھی امریکا کی طرح ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام اور خطے میں سرگرمیوں پر تشویش لاحق ہے۔

تاہم وہ جوہری سمجھوتے کو برقرار رکھنے کے حق میں ہیں اور اس کا دفاع کرتے چلے آرہے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ اس سے کم سے کم ایران کا جوہری پروگرام تو قدغنوں کی زد میں آیا تھا اور یہ مستقبل میں ایران سے بات چیت کی بنیاد ہوسکتا ہے۔جرمن وزیر خارجہ ہائیکو ماس اسی ہفتے ایران کا دورہ کرنے والے ہیں اور وہ جوہری سمجھوتے کو برقرار رکھنے کے حوالے سے ایرانی قیادت سے بات چیت کریں گے۔

دریں اثناء ایرانی پارلیمان کےا سپیکر علی لاری جانی نے فرانسیسی صدر عمانوایل ماکروں کو ان کے ایک حالیہ بیان پر تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔صدر ماکروں نے گذشتہ ہفتے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کے موقع پر کہا تھا کہ ایران کے بارے میں ان کے مقاصد ایک سے ہیں۔

انھوں نے مزید کہا تھا:’’ فرانس اس بات کو یقینی بنانا چاہتا ہے کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل نہ کرسکے۔2025ء تک ہمارے درمیان ایک معاہدہ موجود ہے ۔ہم اس سے آگے بھی جانا چاہتے ہیں اور طویل مدت کے لیے مکمل یقین دہانی چاہتے ہیں ۔پھر بیلسٹک میزائل کی سرگرمی اور ایران کی خطے میں سرگرمیوں کی تحدید چاہتے ہیں۔‘‘

ایران کی خبررساں ایجنسی فارس کے مطابق علی لاری جانی نے کہا :’’فرانسیسی صدر کے حال ہی میں امریکی صدر ٹرمپ سے ملاقات میں ریمارکس شرم ناک ہی نہیں، فضول بھی تھے۔ان کا یہ بیان اس سے بالکل بھی لگا نہیں کھاتا جو وہ ہمارے صدر حسن روحانی سے ملاقاتوں یا ان سے فون پر گفتگو میں کہتے رہے ہیں‘‘۔