.

ایران کے خلاف معمولی اقدام سے خطے میں آگ بھڑک اٹھے گی: سابق سربراہ سپاہِ پاسداران

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کی مجمع تشخیص مصلحت نظام کے سیکریٹری اور سپاہِ پاسداران انقلاب کے سابق سربراہ محسن رضائی نے خبردار کیا ہے کہ ’’اگرا مریکا نے ایران کے خلاف معمولی سا بھی اقدام کیا تو اس سے پورے خطے میں آ گ بھڑک اٹھے گی‘‘۔

محسن رضائی نے ایران کے چینل ون نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے یہ بات تسلیم کی ہے کہ ’’ایران کے خلاف موجودہ پابندیاں سخت ترین ہیں۔ہمیں اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کوئی اقدام کرنا ہوگا کہ ایرانی عوام پر عاید کردہ یہ پابندیاں آخری ثابت ہوں۔اس مقصد کے لیے ایک انقلابی مزاحمتی حکمتِ عملی اختیار کرنا ہوگی تاکہ امریکا پھر کبھی ہمارے خلاف پابندیاں عاید کرنے کا سوچے بھی نہیں‘‘ ۔

انھوں نے کہا کہ ’’ کوئی بھی قوم سمجھوتوں کے ذریعے کبھی کامیاب نہیں ہوئی ہے۔ہم علاقائی طاقت بننے کے لیے آگے بڑھ رہے ہیں اور یہ امریکا کے لیے بھاری ثابت ہوگی‘‘۔

محسن رضائی نے دعویٰ کیا کہ امریکی پابندیوں کا مقصد ایرانی معاشرے میں تقسیم کے بیج بونا ہے۔امریکا اقتصادی دباؤ کے ذریعے لوگوں کو ایران ہی میں سڑکوں پر لانا چاہتا ہے تاکہ ملک کی سلامتی کو اس کے اندر ہی سے نقصان پہنچایا جاسکے۔اس کا مقصد ایران کو مذاکرات کی میز پر لانا ہے‘‘۔

انھوں نے خلیج میں امریکا کے طیارہ بردار بحری جہاز ابراہام لنکن کی حال ہی میں لنگراندازی کو محض ایک علامتی اظہاریہ قرار دیا اور کہا کہ عملی طور پر امریکی کسی جنگی تنازع میں الجھنا نہیں چاہتے ہیں۔ انھوں نے یورپی ممالک پر بھی زور دیا کہ وہ اپنے تمام وعدوں کی پاسداری کریں۔

محسن رضائی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف پابندیوں پر خبردار کیا ہے اور کہا کہ انھیں ایران پر دباؤ برقرار رکھنے کا بھاری خمیازہ بھگتنا پڑے گا اور ایرانی عوام ہرگز بھی اس طرح کے دباؤ کے آگے جھکیں گے نہیں۔

انھوں نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ اس وقت امریکا کی سیاسی اور اقتصادی لحاظ سے حالت بہت پتلی ہوچکی ہے۔امریکا کے پاس ہمارے ساتھ محاذ آرائی جاری رکھنے کے کوئی ذرائع نہیں ہیں۔آج صرف اسرائیل اور سعودی عرب ہی اس کے طرف دار ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمیں اسلامی جمہوری ایران کی بنیادی اقدار کے بارے میں ہرگز بھی کوئی مذاکرات نہیں کرنے چاہییں۔ہمیں شام اور عراق میں اپنی موجودگی کو ایرانی معیشت کی شرح نمو میں اضافے ، مارکیٹ میں توسیع ، تجارت میں اضافے اور اپنی قومی کرنسی کو مضبوط بنانے کے لیے استعمال کرنا چاہیے۔