.

ترکی کی حکمراں جماعت میں 'ایردوآن' کے خلاف بغاوت کا آتش فشاں پھٹنے کو ہے: دی اکانومسٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

تُرکی میں صدر رجب طیب ایردوآن کی بعض آمرانہ پالیسیوں اور فرد واحد کے فیصلوں سے ان کی اپنی جماعت 'آق' میں پھوٹ پڑنے اور جماعت کے بعض رہ نمائوں‌کی جانب سے ایک نئی سیاسی جماعت تشکیل دینے کی کوششوں‌ کی خبریں اس وقت عالمی ذرائع ابلاغ میں تواترکے ساتھ آ رہی ہیں۔

موقر انگریزی اخبار'دی اکانومسٹ' نے اپنی تازہ اشاعت میں شامل ایک رپورٹ میں ترکی میں آنے والے دونوں میں ممکنہ سیاسی تبدیلیوں پر روشنی ڈالی ہے۔ رپورٹ میں لکھا ہے کہ ترکی کی حکمراں جماعت 'انصاف و ترقی' میں صدر طیب ایردوآن کے خلاف بغاوت کا لاوا پک رہا ہے جو کسی بھی وقت آتش فشاں بن کر پھٹ سکتا ہے۔

اخباری رپورٹ کے مطابق ترک صدر کے خلاف ان کی جماعت میں بغاوت کی افواہیں اس وقت مزید تیز ہوگئیں جب جماعت کے ایک سابق سینیر رُکن نے طیب ایردوآن کی پالیسیوں پر کڑی تنقید کرتے ہوئے انہیں خبردار کیا کہ اگر انہوں‌ نے اپنی آمرانہ روش ترک نہ کی تو اس کے نتیجے میں 'آق' پارٹی میں پھوٹ‌ پڑسکتی ہے۔

'دی اکانومسٹ' کی رپورٹ‌ میں کہا گیا ہے کہ رواں سال 'آق' پارٹی کو سخت نوعیت کے اقتصادی دبائو کا بھی سامنا ہے۔ رواں سال مارچ میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات میں'آق' کو شکست کا سامنا کرنا پڑا جس نے ایردوآن کی پوزیشن مزید کمزور کردی۔ اس کے ساتھ ساتھ ایسے اشارے مل رہےہیں کہ ایردوآن کے 'ناراض' ساتھی جن میں سابق صدر اور سابق وزیراعظم شامل ہیں ایک نئی سیاسی جماعت تشکیل دینے کی تیاری کر رہے ہیں۔ یہ نئی جماعت صدر طیب ایردوآن کا سیاسی میدان میں مقابلہ کرے گی۔

گذشتہ مارچ میں جب استنبول بلدیہ کے انتخابات میں اپوزیشن جماعت کے لیڈر کو میئرکے انتخابات میں کامیابی حاصل ہوئی تو صدر طیب ایردوآن اور ان کی جماعت کو یہ کامیابی گوارہ نہیں ہوسکی۔ آق پارٹی نے استنبول بلدیہ کے انتخابات کالعدم قرار دینے کے لیے الیکشن کمیشن میں درخواست دی جس کے بعد الیکشن کمیشن نے رواں سال جون میں استنبول میں دوبارہ انتخابات کرانے کا اعلان کیا ہے۔ حکمران جماعت کے اس 'غیر جمہوری' طرز عمل پرعوام میں بھی سخت غم وغصہ پایا جا رہا ہے جس کا اظہار احتجاجی مظاہروں میں بھی ہوتا ہے۔

جہاں تک صدر طیب ایردوآن پر تنقید کرنے والی اہم شخصیات اور پارٹی رہ نمائوں کی بات ہے تو اس میں سابق صدر عبداللہ گل اور سابق وزیراعظم احمد دائود اوگلو نمایاں ہیں۔ دونوں رہ نمائوں کا موقف ہے کہ صدر ایردوآن آئین اور قانون کی بالادستی سے انحراف کی پالیسی پرعمل پیرا ہیں۔ چند ہفتے پیشتر دائود اوگلو کاایک تفصیلی بیان سامنے آیا جس میں انہوں‌نے ترکی کے نئے دستور جس میں ایردوآن کو مطلق اختیارات دیئے گئے ہیں پر شدید تنقید کی۔

عبداللہ گل اور علی بابا جان کے مقربین کا کہنا ہے کہ دونوں رہ نمائوں‌نے ایک نئی سیاسی جماعت قائم کرنے کی کوششیں شروع کردی ہیں۔ اس نئی سیاسی جماعت میں سابق وزراء بھی شامل ہو سکتے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ نئی سیاسی جماعت کا اعلان رواں سال کے موسم خزاں میں کیا جا سکتا ہے جس میں ایردوآن کےسابق قریبی ساتھی علی بابا جان ، عبداللہ گل اور احمد دائود اوگلو شامل ہوسکتے ہیں۔