.

سوڈان: حکمراں فوجی کونسل سے مذاکرات میں ناکامی کے بعد حزبِ اختلاف کے تین قائدین ملک بدر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سوڈان کی حکمراں فوجی کونسل نے حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والی ایک سرکردہ تحریک کے تین لیڈروں کو مذاکرات ناکام ہونے کے بعد ملک بدر کرکے جنوبی سوڈان کے دارالحکومت جوبا بھیج دیا ہے۔

ان تینوں کو گذشتہ ہفتے کے دوران میں دارالحکومت خرطوم سے گرفتار کیا گیا تھا اور وہ سوڈان پیپلز لبریشن موومنٹ -شمال ( ایس پی ایل ایم- این) کے ارکان ہیں۔ان تینوں میں سب سے نمایاں اس تحریک کے نائب سربراہ یاسر ارمان ہیں۔وہ سوڈان کے مطلق العنان صدر عمر حسن البشیر کی 11 اپریل کو معزولی کے بعد خود ساختہ جلاوطنی کی زندگی ختم کرکے خرطوم لوٹے تھے۔انھیں حکام نے گذشتہ بدھ کو ان کی قیام گاہ سے گرفتار کر لیا تھا۔

اسی تحریک کے دو اور لیڈروں ، سیکریٹری جنرل اسماعیل جلاب اور ترجمان مبارک ارضول کو ایتھوپیا کے وزیراعظم ابی احمد سے خرطوم میں ملاقات کے فوری بعد گرفتار کر لیا گیا تھا۔ابی احمد سوڈان کی حکمراں عبوری فوجی کونسل اور حزب اختلاف کے درمیان مصالحت کے لیے کوشاں ہیں لیکن ان کی ثالثی کی کوششیں سوڈان میں جاری بحران کے حل کے لیے ابھی تک رنگ نہیں لاسکی ہیں۔

ایس پی ایل ایم -این کے چئیرمین ملک اگر نے کہا ہے کہ ان کی جماعت کے تین عہدے داروں کو گرفتار کیا گیا تھا ،ان تک رسائی دینے سے انکار کیا گیا ہے اور پھر انھیں ایک فوجی طیارے کے ذریعے جنوبی سوڈان کے دارالحکومت جوبا روانہ کردیا گیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’’ انھیں ملک سے جبری بے دخل کیا گیا ہے ۔اس اقدام سے ظاہری ہوتا ہے کہ حکمراں فوجی کونسل اقتدار ایک شہری حکومت کے حوالے نہیں کرنا چاہتی ہے اور وہ ملک میں امن بھی نہیں چاہتی ہے‘‘۔

دریں اثناء ایتھوپیا کے وزیر اعظم ابی احمد نے ٹویٹر پر یہ اطلاع دی ہے کہ انھوں نے فوجی کونسل کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل عبدالفتاح البرہان سے فون پر مصالحتی کوششوں میں پیش رفت کے ضمن میں تبادلہ خیال کیا ہے۔

سوڈان میں حکمراں فوجی کونسل کے خلاف احتجاجی تحریک کے لیڈروں کی اپیل پر سوموار کو دوسرے روز بھی عام ہڑتال کی گئی ہے اور خرطوم اور دوسرے شہروں میں دکانیں اور کاروباری مراکز بند رہے ہیں ۔اتوار کو سول نافرمانی کے پہلے روز تشدد کے مختلف واقعات میں چار افراد ہلاک ہوگئے تھے ۔

سوڈانی پیشہ وران تنظیم ( ایس پی اے) نے ہفتے کے روز گذشتہ سوموار کو وزارت دفاع کے باہر احتجاجی تحریک کے زیر اہتمام دھرنے کے شرکاء کے خلاف خونیں کریک ڈاؤن کے ردعمل میں ملک گیر سول نافرمانی کی تحریک چلانے کا اعلان کیا تھا اور عوام سے اس میں بھرپور شرکت کی اپیل کی تھی۔اس نے کہا تھا کہ ’’یہ تحریک یہ اس وقت تک جاری رہے گی جب تک ایک شہری حکومت خود سرکاری ٹیلی ویژن سے یہ اعلان نشر نہیں کردیتی کہ اس نے اقتدار اپنے ہاتھ میں لے لیا ہے۔‘‘