.

بھارت : مسلمان بچی سے زیادتی اور قتل میں ملوث 6 ہندوؤں کو سزا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بھارت میں عدالت نے گزشتہ برس ایک 8 سالہ بچی کے ساتھ اجتماعی زیادتی اور قتل کے جرم میں ملوث 6 ہندوؤں کو سزا سنا دی ہے۔ ان کے علاوہ ساتویں ملزم کی سزا کم عمر ہونے کے سبب ملتوی کر دی گئی ہے جب کہ آٹھویں ملزم کو شواہد نہ ہونے کے سبب بری کر دیا گیا ہے۔

شمالی پنجاب میں پٹھان کوٹ کی عدالت کے سامنے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے جنرل پراسیکیوٹر مبین فاروقی نے بتایا کہ ملزمان کو کم از کم عمر قید اور زیادہ سے زیادہ سزائے موت کا سامنا ہو سکتا ہے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق چھ میں سے تین ملزمان کو عمر قید جب کہ تین کو پانچ سال قید کی سزا دی گئی ہے۔

یہ واقعہ جنوری 2018 میں مقبوضہ جموں کشمیر کے جنوبی حصے میں پیش آیا۔ ایک مسلمان قبیلے بکروال سے تعلق رکھنے والی بچی کو اغوا کر کے ایک مندر میں چھپا دیا گیا۔ بچی کے لا پتہ ہونے کے پانچ روز بعد اس کی لاش ایک کھلے علاقے سے مل گئی۔

پولیس کے مطابق اس واقعے کا مقصد مسلمان قبیلے کو ہراساں کرنا اور کٹھوعہ گاؤں سے کوچ پر مجبور کرنا ہے۔

اجتماعی زیادتی کے اس واقعے نے بھارت کے کئی بڑے شہروں میں جنسی تشدد کی کارروائیوں کے خلاف احتجاج کو جنم دیا۔ اس کے علاوہ مقبوضہ جموں کے علاقے میں اس حد تک کشیدگی بڑھ گئی کہ عدالتی کارروائی کو پنجاب منتقل کرنا پڑا۔