.

سوڈان:احتجاجی تحریک کے لیڈروں کا ہڑتال ختم اورجرنیلوں سے مذاکرات بحال کرنے کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سوڈان میں احتجاجی تحریک کے لیڈروں نے سول نافرمانی کی مہم ختم کرنے اور حکمراں عبوری فوجی کونسل کے ساتھ مذاکرات کی بحالی سے اتفاق کیا ہے۔انھوں نے یہ فیصلہ ایتھوپیا کی ثالثی کی کوششوں کے بعد کیا ہے۔

ایتھوپیا سے تعلق رکھنے والے ایک ثالث کار محمود ضریر نے خرطوم میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’ اتحاد برائے آزادی اور تبدیلی نے آج منگل سے سول نافرمانی کی مہم ختم کرنے سے اتفاق کیا ہے اور دونوں فریقوں نے اقتدار ایک سول انتظامیہ کے حوالے کرنے کے لیے جلد مذاکرات کی بحالی سے بھی اتفا ق کیا ہے۔‘‘

محمد ضریر گذشتہ ہفتے ایتھوپیا کے وزیراعظم ابی احمد کے دورے کے بعد سے خرطوم ہی میں مقیم تھے اور وہ سوڈان میں جاری بحران کے خاتمے کے لیے حزب اختلاف کے لیڈروں اور فوجی جرنیلوں سے ملاقاتیں کررہے تھے۔ وزیر اعظم ابی احمد نے سوموار کو سوڈان کی حکمراں عبوری فوجی کونسل کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل عبدالفتاح البرہان سے فون پر بات چیت کی تھی اور ان سے مصالحتی کوششوں میں پیش رفت کے ضمن میں تبادلہ خیال کیا تھا۔

احتجاجی تحریک نے الگ سے ایک بیان میں لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ سول نافرمانی کی تحریک ختم کردیں اور بدھ سے اپنے کام پر آجائیں اور کاروبار شروع کردیں۔

سوڈان میں حکمراں فوجی کونسل کے خلاف احتجاجی تحریک کے لیڈروں کی اپیل پر منگل کو تیسرے روز بھی عام ہڑتال کی جارہی ہے۔ خرطوم اور دوسرے شہروں میں دکانیں اور کاروباری مراکز جزوی یا مکمل طور پر بند ہیں ۔اتوار کو سول نافرمانی کے پہلے روز تشدد کے مختلف واقعات میں چار افراد ہلاک ہوگئے تھے ۔

سوڈانی پیشہ وران تنظیم ( ایس پی اے) نے ہفتے کے روز 3 جون کو وزارتِ دفاع کے باہر احتجاجی تحریک کے زیر اہتمام دھرنے کے شرکاء کے خلاف خونیں کریک ڈاؤن کے ردعمل میں ملک گیر سول نافرمانی کی تحریک چلانے کا اعلان کیا تھا اور عوام سے اس میں بھرپور شرکت کی اپیل کی تھی۔

واضح رہے کہ سوڈانی پروفیشنلز ایسوسی ایشن نے سابق مطلق العنان صدر عمر حسن البشیر کے خلاف گذشتہ سال دسمبر میں احتجاجی تحریک شروع کی تھی ۔اس کے نتیجے میں انھیں اپریل میں اقتدار سے ہاتھ دھونا پڑے تھے اور فوجی کونسل نے انھیں چلتا کرکے اقتدار خود سنبھال لیا تھا۔اس کے بعد سے احتجاجی تحریک کے لیڈر ملک میں جلد سے جلد سول حکومت کے قیام کا مطالبہ کررہے ہیں۔