.

سعودی عرب پر تازہ حوثی حملے ایران کے مکروہ کردار کی نئی مثال ہے: پینٹاگان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی وزارت دفاع "پینٹاگان' نے بُدھ کے روز یمن کے حوثی باغیوں‌ کی طرف سے سعودی عرب کے ابھا شہر کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر راکٹ حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں خطے میں ایران کے مکروہ کردار کی تازہ مثال قرار دیا ہے۔

سعودی عرب میں مریکی سفارت خانے کی طرف سے بھی ابھا کے ہوائی اڈے پر حوثیوں کے حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے ان حملوں میں ایران کے ملوث ہونے کا الزام عاید کیا ہے۔

امریکی سفارت خانے کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی سفیر جان ابو زید اور مُملکت میں تعینات تمام امریکی سفارتی عملہ ابھا ہوائی اڈے پر بے گناہ شہریوں پر حوثیوں کے حملوں کی پرزور مذمت کرتا ہے۔ ان حملوں میں حوثی دہشت گردوں نے نہتے اور معصوم شہریوں کو نشانہ بنایا۔ بیان میں تمام زخمیوں‌ کی جلد صحت یابی کی خواہش ظاہر کی گئی ہے۔

خیال رہے کہ یمن کی آئینی حکومت کی رٹ بحالی کے لئے سرگرم عرب اتحاد کے ترجمان کرنل ترکی المالکی نے بتایا کہ حوثیوں نے سعودی عرب کے شہر أبها میں بین الاقوامی ہوائی اڈے پر بدھ کو علی الصباح ایک راکٹ حملہ کیا۔ حملے میں 26 افراد زخمی ہوئے۔ اس ہوائی اڈے سے روزانہ ہزاروں سعودی شہری، مملکت میں مختلف قومیتوں کے مقیم غیر ملکی شہری سفر کرتے ہیں۔ حملے کے بعد چند لمحوں کے لئے ائر ٹریفک بند رہی تاہم بعد میں ہوائی اڈا سے معمول کی پروازں کا سلسلہ بحال کر دیا گیا۔

ایک بیان میں کرنل ترکی المالکی نے بتایا ابھا ہوائی اڈے کے آمد ہال پر راکٹ کرنے مختلف قومیتوں سے تعلق رکھنے والے کم سے کم 26 مسافر زخمی ہوئے۔ ان میں یمن، بھارت اور سعودی عرب سے تعلق رکھنے والی تین خواتین، دو سعودی بچے شامل تھے۔ حملے میں آٹھ دوسرے مسافروں کو بھی درمیانے درجے کے زخم آئے جنہیں علاج کی غرض سے ہسپتال داخل کرا دیا گیا ہے۔ اٹھارہ زخمیوں کو موقع پر مرہم پٹی کے بعد فارغ کر دیا گیا ہے۔ راکٹ حملے سے ہوائی اڈے کی عمارت کو بھی نقصان پہنچا۔

کرنل ترکی المالکی کا مزید کہنا تھا کہ سیکیورٹی اور فوجی حکام دہشت گرد حملے میں استعمال کئے جانے والے راکٹ کی نوعیت کا تعین کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس سے قبل ایرانی حمایت یافتہ دہشت گرد نے اپنے ہم نوا ذرائع ابلاغ کے توسط سے دعوی کیا تھا کہ انھوں نے ابھا ہوائی اڈے پر ’’کروز‘‘ میزائل سے حملہ کیا ہے۔ یہ دعوی شہری تنصیبات اور عوام کو نشانہ بنانے سے متعلق حوثیوں کا صریح اعتراف ہے۔ یاد رہے جنگ کے دوران بھی عام شہریوں اور سول عمارتوں کو نشانہ بنانا بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی شمار کیا جاتا ہے۔ عام شہریوں اور سول عمارتوں کو جان بوجھ کر نشانہ بنانا جنگی جرائم کے زمرے میں آتا ہے۔

اس حملے سے یہ بات بھی ثابت ہوتی ہے کہ حوثی ملیشیا نے جدید طرز کا اسلحہ استعمال کرنا شروع کر رکھا ہے۔ ایرانی حکومت سرحد پار دہشت گردی کی ان کارروائیوں میں حوثیوں کی مکمل امداد کر رہی ہے جو بذات خود اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل سے منظور کی جانے والی قراردادوں (2216) اور (2231) کی کھلی خلاف ورزی ہے۔