.

فرانس:سابق صدارتی امیدوار لی پین کے خلاف داعش کی سفاکیت پرمبنی ٹویٹس پر مقدمہ چلےگا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فرانس میں ایک عدالت نے سابق شکست خوردہ صدارتی امیدوار ، انتہائی دائیں بازو کی لیڈر میرین لی پین کے خلاف 2015ء میں سخت گیر جنگجو گروپ داعش کے مظالم کے بارے میں ٹویٹر پر تین تصاویر پوسٹ کرنے کی بنا پر مقدمہ چلانے کا حکم دیا ہے۔ انھوں نے تب تین ٹویٹس میں ان تصاویر کے ساتھ داعش کی سفاکیت کے بارے میں مواد پوسٹ کیا تھا۔

لی پین کے خلاف یکم مارچ 2018ء کو دہشت گردی پر اُکسانے یا عریاں مواد یا انسانی وقار کے منافی متشدد پیغامات کی تشہیر کے الزام میں فرد جرم عاید کی گئی تھی اور یہ کہا گیا تھا کہ ان کے یہ پیغام کم سن بچّے بھی دیکھ سکتے ہیں۔فرانسیسی دارالحکومت پیرس کے مغرب میں واقع علاقے نانترے میں ایک جج نے لی پین کے خلاف بدھ کو اس فرد جرم کی بنا پر مقدمہ چلانے کا یہ حکم جاری کیا ہے۔

انھیں اس جرم کی پاداش میں تین سال تک جیل اور 75 ہزار یورو ( 91 ہزار ڈالر)جرمانے کی سزا کا سامنا ہوسکتا ہے۔انھوں نے نومبر 2015ء میں فرانس میں دہشت گردی کے حملوں کے چند ہفتے کے بعد یہ تصاویر پوسٹ کی تھیں۔ان حملوں میں 130 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

ان میں ایک تصویر امریکی صحافی جیمز فولی کی سربریدہ لاش دکھائی گئی تھی۔ داعش نے اغوا کے بعد اس کا سرقلم کردیا تھا اور اس کی ویڈیو اور تصاویر انٹرنیٹ پر جاری کی تھیں۔ایک اور تصویر میں نارنجی سوٹ میں ملبوس ایک شخص پر ٹینک چڑھا دیا گیا تھا ۔تیسری تصویر پنجرے میں بند اردنی پائیلٹ کی تھی جس کو داعش نے زندہ جلا دیا تھا۔

فرانس کی سیاسی جماعت نیشنل فرنٹ کی سربراہ نے ان تصاویر کے ساتھ کیپشن میں یہ لکھا تھا: ’’ داعش یہ ہیں‘‘۔انھوں نے ایک ٹی وی چینل کے صحافی کے سوال کے جواب میں انتہا پسندوں اور فرانس کے انتہا ئی دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے افراد کے درمیان ایک موازنہ پیش کیا تھا۔

لی پین نے بعد میں جیمز فولی کی تصویر اس کے خاندان کی درخواست پر اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ سے حذف کردی تھی اور یہ کہا تھا کہ وہ اس کی شناخت کے بارے میں لاعلم تھیں۔انھوں نے اپنے خلاف فردجرم کی مذمت کی تھی اور کہا تھا کہ ان کے اظہار رائے کی آزادی کے حق کو سلب کیا جارہا ہے۔ اگر وہ یہی کام کسی اور ملک میں کرتیں تو انھیں میڈل سے نوازاجاتا۔فردجرم سے قبل فرانسیسی پارلیمان نے انھیں حاصل قانونی استثنا ختم کردیا تھا۔