.

الحدیدہ میں حوثیوں‌ کی عسکری سرگرمیاں بدستور جاری ہیں: اقوام متحدہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ نے انکشاف کیا ہے کہ یمن کے ساحلی علاقے الحدیدہ سے انخلا کے باوجود ایران نواز حوثی ملیشیا کی الحدیدہ بندرگاہ پرعسکری سرگرمیاں غیرمعمولی حد تک بدستورجاری ہیں، تاہم مغربی یمن کی الصلیف بندرگاہ اور راس عیسیٰ کے مقامات سے حوثی ملیشیا نکل چکی ہے۔

الحدیدہ میں طے پائے جنگ بندی معاہدے کی نگرانی کے لیے قائم کردہ اقوام متحدہ کے ہائی کمیشن کے سربراہ جنرل مائیکل لولیسگارڈ نے ایک پریس بیان میں حوثیوں پر زور دیا کہ وہ الحدیدہ بندرگاہ پراپنی عسکری سرگرمیاں مکمل اور فوری طورپر ختم کریں۔ الحدیدہ میں کھودے گئے بنکر اور خندقیں ختم کرنا جنگ بندی معاہدے کا حصہ ہے۔

انہوں‌ نے کہا کہ اقوام متحدہ کی زیرنگرانی الحدیدہ کے لیے طے پائے جنگ بندی معاہدے کے تحت الحدیدہ میں 450 افراد پرمشتمل کوسٹ گارڈ فورس کی تشکیل کی حمایت کی گئی تھی۔ یہ نفری الحدیدہ سمیت دو دوسری بندرگاہوں کی سیکیورٹی کی ذمہ دار ہے۔

جنرل لولسیگارڈ نے یمنی حکومت اور حوثی ملیشیا پر زور دیا کہ وہ جنگ بندی کے لیے مذاکرات کا سلسلہ بحال کریں تاکہ جنگ بندی معاہدے کے پہلے اور دوسرے مرحلے کو کامیابی کے آگے بڑھایا جا سکے۔

اقوام متحدہ کے نگران کمیشن کے سربراہ جنرل لولیسگارڈ نے جنگ بندی کمیٹی میں شامل یمنی حکومت اور حوثیوں کے نمائندوں کو مکتوب ارسال کیا ہے جس میں‌ اُنہیں اقوام متحدہ کی امن فوج کی بحرالاحمر کی تین بندرگاہوں الحدیدہ، راس عیسیٰ اورالصلیف پر 11 سے14 مئی کے دوران تعیناتی کی تفصیلات بیان کی گئی ہیں۔

مئی میں حوثی ملیشیا نے الحدیدہ سے یک طرفہ طورپر اپنا عملہ نکال لیا تھامگر یمنی حکومت نے اسے حوثیوں کی ایک چال اور دھوکہ قرار دے کر مسترد کردیا تھا۔