.

دو تیل بردار جہازوں پر حملے کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں تیزی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

خلیج عمان میں ایران اور آبنائے ہُرمز کے نزدیک دو تیل بردار بحری جہازوں پر مشتبہ تخریبی حملے کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں چار فی صد سے زیادہ اضافہ ہو گیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق دو ٹینکروں مارشل آئس لینڈ کے پرچم بردار فرنٹ آلٹیر اور پاناما کے پرچم بردار کوکوکا کورجیئس پر حملے کے بعد ان کے عملہ کو باحفاظت نکال لیا گیا ہے۔ فرنٹ آلٹیر پر آتش گیر تیل ( نفتھا) اور کوکوکا کورجیئس پر میتھانول لدا ہوا تھا۔

ان میں اول الذکر جہاز آبی بم (تارپیڈو) سے ٹکرایا تھا۔ موخر الذکر جہاز کے مینجر کا کہنا ہے کہ مشتبہ تخریبی حملے کےبعد اس میں لدے مواد کو کوئی نقصان نہیں پہنچا ہے اور وہ محفوظ رہا ہے۔ گذشتہ ماہ بھی اسی علاقے میں امارت فجیرہ کے نزدیک خلیج عمان میں چار تیل بردار بحری جہازوں پر بارودی سرنگوں سے حملہ کیا گیا تھا۔ ان میں دو بحری جہاز سعودی عرب کے تھے۔ایک ناروے اور ایک متحدہ عرب امارات کا تھا۔

جمعرات کو اس حملے کے بعد برینٹ نارتھ میں تیل کی قیمتوں میں 4.45 فی صد اضافہ ہوا ہے اور مستقبل کے لیے تیل کے فی بیرل سودے 62.64 ڈالر میں ہوئے ہیں۔ اس طرح تیل کی فی بیرل قیمت میں 1.72 ڈالر کا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

ادھر امریکا میں ویسٹ ٹیکساس انٹر میڈیٹ میں خام تیل کی قیمت میں 1.32 ڈالر فی بیرل کا اضافہ ہوا ہے اور فی بیرل قیمت 52.46 ڈالر ہوگئی ہے۔ ویسٹ ٹیکساس میں قبل ازیں حملوں کی اطلاع کے بعد تیل کی قیمتوں میں 3.85 ڈالر فی بیرل تک اضافہ ہوا تھا اور مستقبل کے سودے 53.11 ڈالر فی بیرل میں طے پائے تھے۔

واضح رہے کہ حال ہی میں امریکا کے تیل کے ذخائر میں غیر متوقع اضافے اور عالمی مارکیٹ میں تیل کی طلب میں کمی کے پیش نظر تیل کی قیمتوں میں کمی واقع ہوئی تھی۔